زمانہ اور ان کے رنگ زمانہ میرے خلاف زہر اگل سکتا ہے اس کا کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون کہاں کسی کو روک سکتا ہے اب ان ذہنی بیمار لوگوں کی فطرت سے کیسے کوئی اپنی منزل کو بھول سکتا ہے ہر دفع میری پھروں سے اٹھنے کی شدت کو ہر بار یہاں کوئی نہ کوئی توڑ سکتا ہے اور کیا اس کا ٹوٹنے اور گرنے کے ڈر سے کیسے کوئی کوشش کرنا چھوڑ سکتا ہے یہ زمانہ ہے جناب یہاں 9 یہ سب یہاں دل ہر روز دکھایا جا سکتا ہے آسماں ہے وہ ہے وہ اڑتے آزاد ہر اس کا پرندے کے یہاں کوئی بھی اس کا کے پروں کو کاٹ سکتا ہے کامیابی کے شکھر ہے وہ ہے وہ پہنچے ہوئے لوگوں کو کوئی کبھی بھی انہیں شکھر سے اتار سکتا ہے
Related Nazm
انجام ہیں لبریز آ ہوں سے ٹھنڈی ہوائیں اداسی ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں محبت کی دنیا پہ شام آ چکی ہے سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں مچلتی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ لاکھ آرزوئیں تڑپتی ہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ لاکھ الت جائیں ت غافل کی آغوش ہے وہ ہے وہ سو رہے ہیں تمہارے ستم اور مری وفائیں م گر پھروں بھی اے مری معصوم قاتل تمہیں پیار کرتی ہیں مری دعائیں
Faiz Ahmad Faiz
27 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मुझ से पहले कितने शाइ'र आए और आ कर चले गए कुछ आहें भर कर लौट गए, कुछ नग़ में गा कर चले गए वे भी एक पल का क़िस्सा थे, मैं भी एक पल का क़िस्सा हूँ कल तुम से जुदा हो जाऊँगा गो आज तुम्हारा हिस्सा हूँ मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है कल और आएँगे नग़मों की खिलती कलियाँ चुनने वाले मुझ सेे बेहतर कहने वाले, तुम सेे बेहतर सुनने वाले कल कोई मुझ को याद करे, क्यूँ कोई मुझ को याद करे मसरुफ़ ज़माना मेरे लिए, क्यूँ वक़्त अपना बर्बाद करे मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है रिश्तों का रूप बदलता है, बुनियादें ख़त्म नहीं होतीं ख़्वाबों और उमँगों की मियादें ख़त्म नहीं होतीं इक फूल में तेरा रूप बसा, इक फूल में मेरी जवानी है इक चेहरा तेरी निशानी है, इक चेहरा मेरी निशानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है तुझ को मुझ को जीवन अमृत अब इन हाथों से पीना है इन की धड़कन में बसना है, इन की साँसों में जीना है तू अपनी अदाएं बक्ष इन्हें, मैं अपनी वफ़ाएँ देता हूँ जो अपने लिए सोचीं थी कभी, वो सारी दुआएँ देता हूँ मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है
Sahir Ludhianvi
52 likes
نجم اک بر سے اور کٹ گیا تو شریک روز سانسوں کی جنگ لڑتے ہوئے سب کو اپنے خلاف کرتے ہوئے یار کو بھولنے سے ڈرتے ہوئے اور سب سے بڑا غصہ ہے یہ سانسیں لینے سے دل نہیں بھرتا اب بھی مرنے کو جی نہیں کرتا
Shariq Kaifi
46 likes
پیڑ سترہ اٹھارہ سال کی تھی حقیقت جب حقیقت دنیا چھوڑ گئی تھی آخری سانسیں گنتی لڑکی مجھ سے ہمت بانٹ رہی تھی ہاتھ پکڑ کے ڈانٹ رہی تھی ایسے تھوڑی کرتے ہیں عاشق تھوڑی مرتے ہیں جسم تو ایک کہانی ہے سانسیں آنی جانی ہیں ا سے نے کہا تھا پیارے لڑکے سب سے ملنا ہن سے کے ملنا میری یاد ہے وہ ہے وہ پیڑ لگانا پاگل لڑکے عشق کے حامی میرے پیچھے مر مت جانا عشق کیا تھا عشق نبھانا
Rishabh Sharma
20 likes
More from Lalit Mohan Joshi
اک لڑکی یہ پوری دنیا بے حد اچھی لگتی ہے جب حقیقت لڑکی رستہ میرا تکتی ہے پھروں یہ دنیا ساری اپنی لگتی ہے جب پیار سے با ہوں ہے وہ ہے وہ حقیقت لڑکی بھرتی ہے اور یہ ساری دنیا ایک طرف ہے زبان باقی ایک طرف حقیقت لڑکی ہے چہرے کی ا سے کی معصوم حقیقت ہنسی چنو مجھ کو جیون نیا عطا کرتی ہے پھروں مجھ ادھورے سے لڑکے کو ساتھ آ کر مری حقیقت پورا کرتی ہے سارے خواب بھی ملائے گا ہونے لگتے ہیں جب مری ساتھ حقیقت لڑکی رہتی ہے سچ پوچھو تو حقیقت لڑکی ا سے نادان لڑکے کو آ کر نادان سے حقیقت سمجھدار کرتی ہے ا سے پیاری سی لڑکی کو ہے وہ ہے وہ کیا ک ہوں مری ہر غزل کو حقیقت مکمل کرتی ہے حقیقت لڑکی مری غزل کے مطلعے سے شروع ہوکر شعر قافیہ ردیف سے ہوکر مقطعے پر رکتی ہے حقیقت لڑکی کبھی بہر ہے وہ ہے وہ تو کبھی بنا بہر کے بھی خوبصورت لگتی ہے ساتھ ہے وہ ہے وہ ا سے کے چار قدم ب سے چل پاؤں مری خدا سے ب سے یہی دعا رہتی ہے
Lalit Mohan Joshi
4 likes
"ज़िंदगी है क्या" बे-मन उम्र गुजारना ज़िंदगी है क्या रोज़ टूट कर बिखरना ज़िंदगी है क्या हम को रोज़ आकार हर कोई जीने लगता है और उस का आकार चले जाना ज़िंदगी है क्या ज़िंदगी कितना और सीखना है मुझ पर ये तेरा सितम ढाना ज़िंदगी है क्या दो वक़्त की रोटी के ख़ातिर हर दर पर हाथ फैलाना ज़िंदगी है क्या अगर तुम रखते हो ज़रूरी डिग्री-याफ़्ता तो एक भली नौकरी को तरसना ज़िंदगी है क्या मुसलसल ख़्वाबों के लिए जगना और उन ख़्वाबों का टूटना ज़िंदगी है क्या कुछ नए तजरबे सीखने के ख़ातिर अंगारों पे यूँँ रोज़ चलना ज़िंदगी है क्या जवानी के इस सुहाने सफ़र पर मोहब्बत के लिए दर बदर भटकना ज़िंदगी है क्या ये मसअला समझ आया ही नहीं चोट खाना और फिर सँभालना ज़िंदगी है क्या एक दो नंबरों के खेल में ख़ुद को तबाह करना ज़िंदगी है क्या जितना कम हुआ नंबरों का अंतर उतना नौकरी से दूर जाना ज़िंदगी है क्या गाँव से शहर आया था एक सुलझा लड़का उस का यहाँ उलझ कर रहना ज़िंदगी है क्या
Lalit Mohan Joshi
3 likes
حکمران لوٹا ہے کسانوں بھوک نے مری دیش کو لوٹا ہے ان امیرو نے مری دیش کو اور ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدلتے حکمرانوں نے لوٹا ہے مری دیش کو روتے بچے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ چنو دیتے ہیں کھلونا ویسے یہ حکمران چپ کراتے ہیں مری دیش کو کیسے کیسے پرلوبھن سے اپنے کوکرم چھپاتے ہیں یہ حکمران ایسے بہلاتے فسلاتے ہیں مری دیش کو جھوٹ ان کے بکتے ہیں سر بازار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے بازار کا ہر دکاندار ڈراتا ہے مری کو چپ ہیں لب سی گئے ہیں غلط ہے سو یہ زخم پہ زخم دیتے ہیں مری دیش کو سنا ہے چناوی سمے ہے چلو کچھ کرتے ہیں سبب بتاتے ہیں ان کو جو آنکھ دکھاتے ہیں مری دیش کو
Lalit Mohan Joshi
3 likes
नज़्म - वो क्या है उस की आँखें कैसी हैं उस की आँखें रब सी हैं उस की बातें कैसी हैं उस की बातें रौनक़ हैं उस की यादें कैसी हैं मेरी रातों जैसी हैं उस की यादें हिज्र है क्या ये फ़क़त बेकार किस ने बोली है उस का चेहरा कैसा है उस का चेहरा चाँद सा है उस की ज़ुल्फ़ें कैसी है उस की ज़ुल्फ़ें क़ाएनात है उस का साथ चलना क्या है मेरा आगे और आगे बढ़ना है उस की बिंदिया कैसी है माथे पर चाँद जैसी है उस का बोलना कैसा है सारे फ़ज़ा में फ़क़त प्यार ही घोलना है बाग़ में उस का होना कैसा है सारे फूलों को बस खिलना है उस सेे मुहब्बत किस को है उस सेे मुहब्बत सब को है जिस को उस ने चाहा है उस का मुक़द्दर रब ने लिक्खा है मेरी ग़ज़लें मेरी नज़्में क्या है उन के सारे हर्फ़ और सारे मिसरे उस पर है मेरी ग़ज़ल का मतला क्या है उस का चेहरा है शे'र के मिसरे क्या हैं उस की दो आँखें हैं ग़ज़ल का क़ाफ़िया क्या है क़ाफ़िया उस के लब हैं तो रदीफ़ क्या है वो उस की सुंदरता है बताओ फिर मक़्ता क्या है वो उस का दिल है उसपर क्या क्या जँचता है उस पर साड़ी सूट सब जँचता है उस के गाल में पड़ता वो गड्ढा देखो मुझ को दीवाना करता है उस का हुस्न तो है बहुत सुंदर रूह में उस के रब बसता है
Lalit Mohan Joshi
4 likes
خوشی خوشی تری ہوں یا مری خوشی خوشی ہوتے ہیں خوشی کا کوئی لگ مذہب ہوتا ہے لگ کوئی ذات ہوتی ہے خوشی خوشی ہوتے ہیں کبھی یہ سنبھالتے ہیں تو کبھی بگاڑتے ہیں زندہ ہیں تو خوشی ہیں ہے بعد موت کے بھی خوشی شجر کے اپنے خوشی ہیں شاخ کے بھی اپنے خوشی ہیں پھول کے اپنے خوشی ہیں کلی کے بھی اپنے خوشی ہیں آنکھ کے اپنے خوشی ہیں ذہن کے اپنے خوشی ہیں لب کے اپنے خوشی ہیں دل کے بھی کچھ خوشی ہیں دریا کے اپنے خوشی ہیں سمندر کے اپنے خوشی ہیں معشوقہ کے اپنے خوشی ہیں معشوق کے اپنے خوشی ہیں راہ چلتے راہی کے خوشی ہیں طوائف کے اپنے خوشی ہیں زخم کے اپنے خوشی ہیں تو مرہم کے اپنے خوشی ہیں وفا کے اپنے خوشی ہیں بےوفا کے بھی اپنے خوشی ہیں کسانوں کے اپنے خوشی ہیں بیگا لگ غم کے اپنے خوشی ہیں بنا بام و دیوار کے خوشی ہیں تو بام و دیوار ہے وہ ہے وہ بھی خوشی ہیں بچپن کے تھوڑے خوشی ہیں جوانی ہے وہ ہے وہ زیادہ خوشی ہیں بڑھا پہ تو اشکوں کا خوشی ہیں ضروری نہیں غم کے خوشی ہیں خوشی کے اپنے خوشی ہیں
Lalit Mohan Joshi
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Lalit Mohan Joshi.
Similar Moods
More moods that pair well with Lalit Mohan Joshi's nazm.







