بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
Poetry Collection
Maut
Even though it is bitter, death is the ultimately reality. Human beings have been constantly preoccupied with the idea of death. Sometimes, it is welcome while at others, it is scary. As such, poets in every generation have tried to unravel its reality without ever finding an answer. Some of these verses will tell you about death as an idea as well an experience.
Total
74
Sher
50
Ghazal
24
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں
موت کا بھی علاج ہو شاید زندگی کا کوئی علاج نہیں
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی
نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
رونے والوں نے اٹھا رکھا تھا گھر سر پر مگر عمر بھر کا جاگنے والا پڑا سوتا رہا
موت سے کس کو رستگاری ہے آج وہ کل ہماری باری ہے
ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے
جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے
ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے
مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ
مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کی شرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہم
زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بس میں موت آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے
زندگی اک سوال ہے جس کا جواب موت ہے موت بھی اک سوال ہے جس کا جواب کچھ نہیں
موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیں زندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ
موت کا انتظار باقی ہے آپ کا انتظار تھا نہ رہا
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں
موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
موت کا بھی علاج ہو شاید زندگی کا کوئی علاج نہیں
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی
نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
رونے والوں نے اٹھا رکھا تھا گھر سر پر مگر عمر بھر کا جاگنے والا پڑا سوتا رہا
موت سے کس کو رستگاری ہے آج وہ کل ہماری باری ہے
ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے
جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے
ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے
مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ
مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کی شرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہم
زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بس میں موت آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے
موت کا انتظار باقی ہے آپ کا انتظار تھا نہ رہا
زندگی اک سوال ہے جس کا جواب موت ہے موت بھی اک سوال ہے جس کا جواب کچھ نہیں
Explore Similar Collections
Maut FAQs
Maut collection me kya milega?
Maut se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.