ghazalKuch Alfaaz

hadsa vo jo abhi parda-e-aflak men hai aks us ka mire aina-e-idrak men hai na sitare men hai ne gardish-e-aflak men hai teri taqdir mire nala-e-bebak men hai ya miri aah men hi koi sharar zinda nahin ya zara nam abhi tere khas-o-khashak men hai kya ajab meri nava-ha-e-sahar-gahi se zinda ho jaae vo atish jo tiri khaak men hai tod dalegi yahi khaak tilsim-e-shab-o-roz garche uljhi hui taqdir ke pechak men hai hadsa wo jo abhi parda-e-aflak mein hai aks us ka mere aaina-e-idrak mein hai na sitare mein hai ne gardish-e-aflak mein hai teri taqdir mere nala-e-bebak mein hai ya meri aah mein hi koi sharar zinda nahin ya zara nam abhi tere khas-o-khashak mein hai kya ajab meri nawa-ha-e-sahar-gahi se zinda ho jae wo aatish jo teri khak mein hai tod dalegi yahi khak tilsim-e-shab-o-roz garche uljhi hui taqdir ke pechaak mein hai

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

More from Allama Iqbal

اپنی جولان گاہ زیر آسمان سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لو و گل خاک شہر یاراں کے کھیل کو اپنا ج ہاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حجابی سے تری ٹوٹا نگا ہوں کا طلسم اک ردا نیل گوں کو آ سماں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو مہر و تنخواہ و مشتری کو ہم اننا سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام ا سے زمین و آ سماں کو بے کراں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ گئیں راز محبت پردہ داری ہا شوق تھی فغاں حقیقت بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھی کسی درماندہ لائیں گی کی صدا دردناک ج سے کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ

Allama Iqbal

1 likes

خرد کے پا سے خبر کے سوا کچھ اور نہیں ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں گراں بہا ہے تو حفظ خو گرا سے ہے ور لگ گوہر ہے وہ ہے وہ آب گوہر کے سوا کچھ اور نہیں رگوں ہے وہ ہے وہ گردش خوں ہے ا گر تو کیا حاصل حیات شمع مزار کے سوا کچھ اور نہیں عرو سے لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب کہ ہے وہ ہے وہ نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران فرنگ حقیقت اجازت متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن عطا شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

Allama Iqbal

0 likes

لگ تو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے لیے ہے لگ آ سماں کے لیے ج ہاں ہے تری لیے تو نہیں ج ہاں کے لیے یہ عقل و دل ہیں شرر شعلہ محبت کے حقیقت خار و خ سے کے لیے ہے یہ نیستاں کے لیے مقام پرورش آہ و لالہ ہے یہ چمن لگ سیر گل کے لیے ہے لگ آشیاں کے لیے رہے گا راوی و نیل و فرات ہے وہ ہے وہ کب تک ترا سفی لگ کہ ہے بہر بے کراں کے لیے نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو تر سے گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے نگہ بلند سخن دل نواز جاں پر سوز یہی ہے رخت سفر برق کے لیے ذرا سی بات تھی اندیشہ عزم نے اسے بڑھا دیا ہے فقط زیب داستان کے لیے مری گلو ہے وہ ہے وہ ہے اک نغمہ جبرائیل آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکان کے لیے

Allama Iqbal

1 likes

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں علاج درد ہے وہ ہے وہ بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں جو تھے چھالوں ہے وہ ہے وہ کانٹے نوک سوزن سے نکالے ہیں فلا پھولا رہے یا رب چمن مری امیدوں کا ج گر کا خون دے دے کر یہ بوٹے ہے وہ ہے وہ نے پالے ہیں رلاتی ہے مجھے راتوں کو خموشی ستاروں کی نرالا عشق ہے میرا نرالے مری نالے ہیں لگ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی نشمن سیکڑوں ہے وہ ہے وہ نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں نہیں بیگانگی اچھی رفیق راہ منزل سے ٹھہر جا اے شرر ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہیں امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو یہ حضرت دیکھنے ہے وہ ہے وہ سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں مری اشعار اے حفیظ کیوں پیاری لگ ہوں مجھ کو مری ٹوٹے ہوئے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں

Allama Iqbal

0 likes

اثر کرے لگ کرے سن تو لے مری پڑنا نہیں ہے داد کا طالب یہ بندہ آزاد یہ مشت خاک یہ سرسر یہ وسعت افلاک کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد ٹھہر سکا لگ ہوا چمن ہے وہ ہے وہ خیمہ گل یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد قصور وار غریب الدیار ہوں لیکن ترا خرابہ فرشتے لگ کر سکے آباد مری کہوں طلبی کو دعائیں دیتا ہے حقیقت دشت سادہ حقیقت تیرا جہان بے بنیاد خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں حقیقت گلستاں کہ ج ہاں گھات ہے وہ ہے وہ لگ ہوں صیاد مقام شوق زیاد تری قدسیوں کے ب سے کا نہیں انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں دل ہر ذرہ

Allama Iqbal

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Allama Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.