har haqiqat majaz ho jaae kafiron ki namaz ho jaae dil rahin-e-niyaz ho jaae bekasi karsaz ho jaae minnat-e-chara-saz kaun kare dard jab jan-navaz ho jaae ishq dil men rahe to rusva ho lab pe aae to raaz ho jaae lutf ka intizar karta huun jaur ta hadd-e-naz ho jaae umr be-sud kat rahi hai 'faiz' kaash ifsha-e-raz ho jaae har haqiqat majaz ho jae kafiron ki namaz ho jae dil rahin-e-niyaz ho jae bekasi karsaz ho jae minnat-e-chaara-saz kaun kare dard jab jaan-nawaz ho jae ishq dil mein rahe to ruswa ho lab pe aae to raaz ho jae lutf ka intizar karta hun jaur ta hadd-e-naz ho jae umr be-sud kat rahi hai 'faiz' kash ifsha-e-raaz ho jae
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
گرمی شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو گل کھلے جاتے ہیں حقیقت سایہ تر تو دیکھو ایسے نادان بھی لگ تھے جاں سے گزرنے والے ناصحوں پند گرو گھبرائیے تو دیکھو حقیقت تو حقیقت ہے تمہیں ہوں جائے گی الفت مجھ سے اک نظر جاناں میرا محبوب نظر تو دیکھو حقیقت جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں دیکھنے والو کبھی ان کا ج گر تو دیکھو دامن درد کو دل ناشاد بنا رکھا ہے آؤ اک دن دل پر خوں کا ہنر تو دیکھو صبح کی طرح جھمکتا ہے شب غم کا پیام عشقفیض تابندگی دیدہ تر تو دیکھو
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
لگ اب رقیب لگ ناصح لگ غم گسار کوئی جاناں آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا جدا تھے ہم تو میسر تھیں رنگیں کتنی بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا پہنچ کے در پہ تری کتنے معتبر ٹھہرے اگرچہ رہ ہے وہ ہے وہ ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز من گرا سے بتوں نے کی ہیں ج ہاں ہے وہ ہے وہ خدائیاں کیا کیا ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ سکھائیں جاناں نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کج ادائیاں کیا کیا
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئی شمع غم جھلملا تی رہی رات بھر کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر پھروں صبا سایہ شاخ گل کے تلے کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر جو لگ آیا اسے کوئی زنجیر در ہر صدا پر بلاتی رہی رات بھر ایک امید سے دل بہلتا رہا اک تمنا ستاتی رہی رات بھر
Faiz Ahmad Faiz
4 likes
گو سب کو بہم میک اپ و بادہ تو نہیں تھا یہ شہر ادا سے اتنا زیادہ تو نہیں تھا گلیوں ہے وہ ہے وہ پھرا کرتے تھے دو چار دیوانے ہر بے وجہ کا سد چاک لبادہ تو نہیں تھا منزل کو لگ فنا فی ال عشق رہ عشق کا راہی نادان ہی صحیح ایسا بھی سادہ تو نہیں تھا تھک کر یوںہی پل بھر کے لیے آنکھ لگی تھی سو کر ہی لگ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا واعظ سے رہ و رسم رہی رند سے صحبت فرق ان ہے وہ ہے وہ کوئی اتنا زیادہ تو نہیں تھا
Faiz Ahmad Faiz
3 likes
کب یاد ہے وہ ہے وہ تیرا ساتھ نہیں کب ہات ہے وہ ہے وہ تیرا ہات نہیں سد شکر کہ اپنی راتوں ہے وہ ہے وہ اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں ا گر حالات و ہاں دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچہ جاناں ہے وہ ہے وہ کیا ایسے بھی حالات نہیں ج سے دھج سے کوئی مقتل ہے وہ ہے وہ گیا تو حقیقت شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے ا سے جاں کی تو کوئی بات نہیں میدان وفا دربار نہیں یاں نام و نسب کی پوچھ ک ہاں عاشق تو کسی کا نام نہیں کچھ عشق کسی کی ذات نہیں گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.







