ghazalKuch Alfaaz

جیون مجھ سے ہے وہ ہے وہ جیون سے شرماتا ہوں مجھ سے آگے جانے والو ہے وہ ہے وہ آتا ہوں جن کی یادوں سے روشن ہیں مری آنکھیں دل کہتا ہے ان کو بھی ہے وہ ہے وہ یاد آتا ہوں سر سے سانسوں کا ناتا ہے توڑوں کیسے جاناں جلتے ہوں کیوں جیتا ہوں کیوں گاتا ہوں جاناں اپنے دامن ہے وہ ہے وہ ستارے تم بیٹھ کر ٹ ان کو اور ہے وہ ہے وہ نئے برن لفظوں کو پہناتا ہوں جن خوابوں کو دیکھ کے ہے وہ ہے وہ نے جینا سیکھا ان کے آگے ہر دولت کو ٹھکراتا ہوں زہر اگلتے ہیں جب مل کر دنیا والے میٹھے بولوں کی وا گرا ہے وہ ہے وہ کھو جاتا ہوں جالب مری شعر سمجھ ہے وہ ہے وہ آ جاتے ہیں اسی لیے کم رتبہ شاعر کہلاتا ہوں

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

More from Habib Jalib

ا سے نے جب ہن سے کے نمسکار کیا مجھ کو انسان سے اوتار کیا دشت غربت ہے وہ ہے وہ دل ویراں نے یاد جمنا کو کئی بار کیا پیار کی بات لگ پوچھو یاروں ہم نے ک سے ک سے سے نہیں پیار کیا کتنی خوابیدہ تمناؤں کو ا سے کی آواز نے منجملہ و اسباب ماتم کیا ہم پجاری ہیں بتوں کے جالب ہم نے کعبہ ہے وہ ہے وہ بھی اقرار کیا

Habib Jalib

1 likes

ہم نے دل سے تجھے صدا مانا تو بڑا تھا تجھے بڑا مانا میر و غالب کے بعد انی سے کے بعد تجھ کو مانا بڑا بجا مانا تو کہ دیوا لگ صداقت تھا تو نے بندے کو کب خدا مانا تجھ کو پروا لگ تھی زمانے کی تو نے دل ہی کا ہر کہا مانا تجھ کو خود پہ تھا اعتماد اتنا خود ہی کو تو لگ رہنما مانا کی لگ شب کی کبھی پذیرائی صبح کو جائیں گے ثنا مانا ہن سے دیا سطح ذہن عالم پر جب کسی بات کا برا مانا یوں تو شاعر تھے اور بھی اے خون تمنا ہم نے تجھ سا لگ دوسرا مانا

Habib Jalib

0 likes

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ انتخاب اہل گلشن پر بے حد روتا ہے دل دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواوں کی جگہ کچھ بھی ہوتا پر لگ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں راہزن ہوتے ا گر ان رہنماؤں کی جگہ لٹ گئی ا سے دور ہے وہ ہے وہ اہل کی رکھ بک رہے ہیں اب صحافی بے سواوں کی جگہ کچھ تو آتا ہم کو بھی جاں سے گزرنے کا مزہ غیر ہوتے کاش جالب آشناؤں کی جگہ

Habib Jalib

1 likes

کون بتائے کون سجھے کون سے دیس سدھار گئے ان کا رستہ تکتے تکتے نین ہمارے ہار گئے کانٹوں کے دکھ سہنے ہے وہ ہے وہ تسکین بھی تھی آرام بھی تھا ہنسنے والے بھولے بھالے پھول چمن کے مار گئے ایک لگن کی بات ہے جیون ایک لگن ہی جیون ہے پوچھ نہ کیا کھویا کیا پایا کیا جیتے کیا ہار گئے آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو یہ برکھا برساتے دن تو بن پریتم بے کار گئے جب بھی لوٹے پیار سے لوٹے پھول نہ پا کر گلشن ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھونرے امرت رس کی دھن ہے وہ ہے وہ پل پل سو سو بار گئے ہم سے پوچھو ساحل والو کیا بیتی دکھیاروں پر خیون ہارے بیچ بھنور ہے وہ ہے وہ چھوڑ کے جب اس کا پار گئے

Habib Jalib

1 likes

حقیقت دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا م گر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا تو ہوگا اسے تھا شوق بے حد مجھ کو اچھا رکھنے کا یہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہوگا کبھی لگ حد ادب سے بڑھے تھے دیدہ و دل حقیقت مجھ سے ک سے لیے کسی بات پر خفا ہوگا مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تک کسی سے بھی لگ حقیقت مری طرح ملا ہوگا کبھی کبھی تو ستاروں کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ حقیقت بھی مری خیال ہے وہ ہے وہ کچھ دیر جاگتا ہوگا حقیقت ا سے کا سادہ و معصوم والہا لگ پن کسی بھی جگ ہے وہ ہے وہ کوئی دیوتا بھی کیا ہوگا نہیں حقیقت آیا تو جالب گلہ لگ کر ا سے کا لگ جانے کیا اسے در سانحے مسئلہ ہوگا

Habib Jalib

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Habib Jalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Habib Jalib's ghazal.