کیا یہ بھی ہے وہ ہے وہ بتلا دوں تو کون ہے ہے وہ ہے وہ کیا ہوں تو جان تماشا ہے ہے وہ ہے وہ محو تماشا ہوں تو باعث ہستی ہے ہے وہ ہے وہ حاصل ہستی ہوں تو خالق الفت ہے اور ہے وہ ہے وہ ترا بندہ ہوں جب تک لگ ملا تھا تو اے فت لگ دو عالم جب درد سے غافل تھا اب درد کی دنیا ہوں کچھ فرق نہیں تجھ ہے وہ ہے وہ اور مجھ ہے وہ ہے وہ کوئی لیکن تو اور کسی کا ہے بے درد ہے وہ ہے وہ تیرا ہوں مدت ہوئی کھو بیٹھا سرمایہ تسکیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تو تری فرقت ہے وہ ہے وہ دن رات تڑپتا ہوں ارمان نہیں کوئی گو دل ہے وہ ہے وہ مری لیکن اللہ ری مجبوری مجبور تمنا ہوں بہزاد حزیں مجھ پر اک کیف سا تاری ہے اب یہ میرا عالم ہے ہنستا ہوں لگ روتا ہوں
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
More from Behzad Lakhnavi
ہے خرد من گرا یہی با ہوش دیوا لگ رہے ہے وہی اپنا کہ جو اپنے سے بیگا لگ رہے کفر سے یہ الت جائیں کر رہا ہوں بار بار جاؤں تو کعبہ م گر رکھ سو مے خا لگ رہے شمع سوزاں کچھ خبر بھی ہے تجھے و مست غم حسن محفل ہے جبیں جب تک کہ پروا لگ رہے زخم دل اے زخم دل ناسور کیوں بنتا نہیں لطف تو جب ہے کہ افسانے ہے وہ ہے وہ افسا لگ رہے ہم کو واعظ کا بھی دل رکھنا ہے ساقی کا بھی دل ہم تو توبہ کر کے بھی پابند مے خا لگ رہے آخرش کب تک رہیں گی حسن کی نادانیاں حسن سے پوچھو کہ کب تک عشق دیوا لگ رہے فیض راہ عشق ہے یا فیض جذب عشق ہے ہم تو منزل پا کے بھی منزل سے بیگا لگ رہے مختلف ہے وہ ہے وہ ہم دعائیں کر رہے ہیں بار بار ا سے طرف بھی چشم مست پیر مے خا لگ رہے آج تو ساقی سے یہ بہزاد نے باندھا ہے عہد لب پہ توبہ ہوں م گر ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پیما لگ رہے
Behzad Lakhnavi
0 likes
خدا کو ڈھونڈ رہا تھا کہی خدا لگ ملا زہے نصیب کہ بندے کو مدعا لگ ملا نگاہ شوق ہے وہ ہے وہ بے نوریوں کا رنگ بڑھا نگاہ شوق کو جب کوئی دوسرا لگ ملا ہم اپنی بے خو گرا شوق پر نثار رہے خو گرا کو ڈھونڈ لیا جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا لگ ملا تمہاری بزم ہے وہ ہے وہ لب کھول کر ہوا خاموش حقیقت بد نصیب جسے کوئی آسرا لگ ملا ہر ایک زرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود تو آ رہا تھا نظر عجیب بات تمہارا کہی پتا لگ ملا ب سے اک سکون ہی ہم کو لگ مل سکا تا عمر وگر لگ تری تصدق ہے وہ ہے وہ ہم کو کیا لگ ملا تری نگاہ محبت نواز ہی کی قسم کہ آج تک تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سا دوسرا لگ ملا ترا جمال فضاؤں ہے وہ ہے وہ منتشر تھا م گر نگاہ شوق کو پھروں بھی ترا پتا لگ ملا ہزار ٹھوکریں خائی ہزار سو بہزاد جہان حسن ہے وہ ہے وہ کوئی بھی با وفا لگ ملا
Behzad Lakhnavi
0 likes
محبت مستقل کیف آفرین معلوم ہوتی ہے خلش دل ہے وہ ہے وہ ج ہاں پر تھی وہیں معلوم ہوتی ہے تری جلووں سے ٹکرا کر نہیں معلوم ہوتی ہے نظر بھی ایک خا لگ ب جاں معلوم ہوتی ہے نقوش پا کے صدقے بندگی عشق کے قرباں مجھے ہر سمت اپنی ہی جبیں معلوم ہوتی ہے مری رگ رگ ہے وہ ہے وہ یوں تو دوڑتی ہے عشق کی بجلی کہی ظاہر نہیں ہوتی کہی معلوم ہوتی ہے یہ اعجاز نظر کب ہے یہ کب ہے حسن کی کاوش حسین جو چیز ہوتی ہے حسین معلوم ہوتی ہے نومی گرا توڑ دے مری دل مضطر خدا حافظ زبان حسن پر اب تک نہیں معلوم ہوتی ہے اسے کیوں مے کدہ کہتا ہے بتلا دے مری ساقی ی ہاں کی سر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ خلد بریں معلوم ہوتی ہے انتقامن اے چارہ گر ہاں ہاں خلش تو ج سے کو کہتا ہے یہ اجازت دل ہے وہ ہے وہ نہیں دل کے قریں معلوم ہوتی ہے کسی کے پا چھوؤں گا پر جھکی ہے اور نہیں اٹھتی مجھے بہزاد یہ اپنی جبیں معلوم ہوتی ہے
Behzad Lakhnavi
0 likes
دل میرا تیرا تاب فرمان ہے کیا کروں اب تیرا کفر ہی میرا ایمان ہے کیا کروں با ہوش ہوں م گر میرا دامن ہے چاک چاک عالم یہ دیکھ دیکھ کے حیران ہے کیا کروں ہر طرح کا سکون ہے ہر طرح کا ہے کیف پھروں بھی یہ میرا قلب پریشاں ہے کیا کروں کہتا نہیں ہوں اور زما لگ ہے با خبر چہرے سے دل کا حال نمائیں ہے کیا کروں دامن کروں لگ چاک یہ ممکن تو ہے م گر مضطر ہر ایک تار گریباں ہے کیا کروں سادہ سا اک ورق ہوں کتاب حیات کا حسرت سے اب لگ اب کوئی ارمان ہے کیا کروں ہر سمت پا رہا ہوں وہی رنگ دل فریب ہاتھوں ہے وہ ہے وہ کفر کے میرا ایمان ہے کیا کروں داغوں کا قلب زار سے ممکن تو ہے علاج ان کے ہی دم سے دل ہے وہ ہے وہ چراغاں ہے کیا کروں اک بے وفا کے واسطے سے سب کچھ لٹا دیا بہزاد اب لگ دین لگ ایمان ہے کیا کروں
Behzad Lakhnavi
0 likes
اک بےوفا کو درد کا درماں بنا لیا ہم نے تو آہ کفر کو ایمان بنا لیا دل کی خلش پسندیاں ہیں کہ اللہ کی پناہ تیر نظر کو جان رگ جاں بنا لیا مجھ کو خبر نہیں مری دل کو خبر نہیں ک سے کی نظر نے بندہ احسان بنا لیا محسو سے کر کے ہم نے محبت کا ہر الم خواب سبک کو خواب پریشاں بنا لیا دست جنوں کی عقدہ کشائی تو دیکھیے دامن کو بے نیاز گریباں بنا لیا تسکین دل کی ہم نے بھی پرواہ چھوڑ دی ہر موج غم کو حاصل طوفان بنا لیا جب ان کا نام آ گیا تو ہم مضطرب ہوئے آ ہوں کو اپنی آب و زیست کا عنوان بنا لیا ہم نے تو اپنے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت غم ہوں کہ ہوں الم جو کوئی آ گیا تو اسے مہمان بنا لیا آئی لگ دیکھنے کی ضرورت لگ تھی کوئی اپنے کو خود ہی آپ نے حیران بنا لیا اک بے وفا پہ کر کے تصدق دل و ج گر بہزاد ہم نے خود کو پریشاں بنا لیا
Behzad Lakhnavi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Behzad Lakhnavi.
Similar Moods
More moods that pair well with Behzad Lakhnavi's ghazal.







