ghazalKuch Alfaaz

اٹھی نگاہ تو اپنے ہی رو برو ہم تھے زمین آئی لگ خا لگ تھی چار سو ہم تھے دنوں کے بعد اچانک تمہارا دھیان آیا خدا کا شکر کہ ا سے سمے باوضو ہم تھے حقیقت آئی لگ تو نہیں تھا پر آئینے سا تھا حقیقت ہم نہیں تھے م گر یار ہوں بہو ہم تھے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ لڑتے ہوئے آ سماں کے غنیموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی کبھی کوئی دشمن کبھو کبھو ہم تھے ہمارا ذکر بھی اب جرم ہوں گیا تو ہے و ہاں دنوں کی بات ہے محفل کی رکھ ہم تھے خیال تھا کہ یہ پتھراؤ روک دیں چل کر جو ہوش آیا تو دیکھا لہو لہو ہم تھے

Related Ghazal

تیرا چپ رہنا مری ذہن ہے وہ ہے وہ کیا بیٹھ گیا تو اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا تو یوں نہیں ہے کہ فقط ہے وہ ہے وہ ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی ا سے پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گیا تو بیٹھ گیا تو اتنا میٹھا تھا حقیقت نبھائیے بھرا لہجہ مت پوچھ ا سے نے ج سے کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا تو اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں چیختی جاناں رہی اور میرا گلہ بیٹھ گیا تو ا سے کی مرضی حقیقت جسے پا سے بٹھا لے اپنے ا سے پہ کیا لڑنا شہر خاموشاں مری جگہ بیٹھ گیا تو بات دریاؤں کی سورج کی لگ تیری ہے ی ہاں دو قدم جو بھی مری ساتھ چلا بیٹھ گیا تو بزم جاناں ہے وہ ہے وہ نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص جو بھی اک بار ج ہاں بیٹھ گیا تو بیٹھ گیا تو

Tehzeeb Hafi

203 likes

عمر گزرےگی امتحاں ہے وہ ہے وہ کیا داغ ہی دیں گے مجھ کو دان ہے وہ ہے وہ کیا مری ہر بات نبھے گی ہی رہی نقص ہے کچھ مری نقص ہے وہ ہے وہ کیا مجھ کو تو کوئی ٹوکنا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خاندان ہے وہ ہے وہ کیا اپنی محرو میاں چھپاتے ہیں ہم غریبوں کی آن بان ہے وہ ہے وہ کیا خود کو جانا جدا زمانے سے آ گیا تو تھا مری گمان ہے وہ ہے وہ کیا شام ہی سے دکان دید ہے بند نہیں نقصان تک دکان ہے وہ ہے وہ کیا اے مری صبح و شام دل کی شفق تو نہاتی ہے اب بھی بان ہے وہ ہے وہ کیا بولتے کیوں نہیں مری حق ہے وہ ہے وہ ہے وہ آبلے پڑ گئے زبان ہے وہ ہے وہ کیا خموشی کہ رہی ہے کان ہے وہ ہے وہ کیا آ رہا ہے مری گمان ہے وہ ہے وہ کیا دل کہ آتے ہیں ج سے کو دھیان بے حد خود بھی آتا ہے اپنے دھیان ہے وہ ہے وہ کیا حقیقت ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے اب بھی ہوں ہے وہ ہے وہ تری امان ہے وہ ہے وہ کیا یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو کوئی رہتا ہے آسمان ہے وہ ہے وہ کیا ہے نسیم بہار گرد آلود خاک اڑتی ہے ا سے مکان ہے وہ ہے وہ کیا

Jaun Elia

61 likes

جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے سچ بولو سرکاری اعلان ہوا ہے سچ بولو گھر کے اندر تو جھوٹوں کی ایک جوان فصلیں ہے دروازے پر لکھا ہوا ہے سچ بولو گلدستے پر یکجہتی لکھ رکھا ہے گلدستے کے اندر کیا ہے سچ بولو گنگا میا ڈوبنے والے اپنے تھے ناو ہے وہ ہے وہ ک سے نے چھید کیا ہے سچ بولو

Rahat Indori

71 likes

حقیقت زما لگ گزر گیا تو کب کا تھا جو دیوا لگ مر گیا تو کب کا ڈھونڈتا تھا جو اک نئی دنیا لوٹ کے اپنے گھر گیا تو کب کا حقیقت جو لایا تھا ہم کو دریا تک پار اکیلے اتر گیا تو کب کا ا سے کا جو حال ہے وہی جانے اپنا تو زخم بھر گیا تو کب کا خواب در خواب تھا جو شیرازہ اب ک ہاں ہے بکھر گیا تو کب کا

Javed Akhtar

62 likes

کسے خبر ہے کہ عمر ب سے ا سے پہ غور کرنے ہے وہ ہے وہ کٹ رہی ہے کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے ک سے خوشی ہے وہ ہے وہ لپٹ رہی ہے عجیب دکھ ہے ہم ا سے کے ہوکر بھی ا سے کو چھونے سے ڈر رہے ہیں عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں ہے وہ ہے وہ بٹ رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہر روز ب سے یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا سنو ی ہاں کوئی م سے’ألا ہے تمہاری آواز کٹ رہی ہے مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے اور سبز ہونے سے کیا کسی کو یہ بیل شاید کسی مصیبت ہے وہ ہے وہ ہے جو مجھ سے لپٹ رہی ہے یہ سمے آنے پہ اپنی اولاد اپنے اضداد بیچ دےگی جو فوج دشمن کو اپنا سالار گروی رکھ کر پلٹ رہی ہے سو ا سے تعلق ہے وہ ہے وہ جو غلط فہ میاں تھیں اب دور ہوں رہی ہیں رکی ہوئی گاڑیاں کے چلنے کا سمے ہے دھند چھٹ رہی ہے

Tehzeeb Hafi

88 likes

More from Rahat Indori

پرانی داو پر ہر دن نئے آنسو لگاتا ہے حقیقت اب بھی اک پھٹے رومال پر خوشبو لگاتا ہے اسے کہ دو کہ یہ اونچائیاں مشکل سے ملتی ہیں حقیقت سورج کے سفر ہے وہ ہے وہ موم کے بازو لگاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کالی رات کے تیزاب سے سورج بناتا ہوں مری چادر ہے وہ ہے وہ یہ پیوند اک جگنو لگاتا ہے ی ہاں لچھمن کی ریکھا ہے لگ سیتا ہے م گر پھروں بھی بے حد پھیرے ہمارے گھر کے اک سادھو لگاتا ہے نمازیں مستقل پہچان بن جاتی ہے چہروں کی تلک ج سے طرح ماتھے پر کوئی ہندو لگاتا ہے لگ جانے یہ انوکھا فرق ا سے ہے وہ ہے وہ ک سے طرح آیا حقیقت اب کالر ہے وہ ہے وہ پھولوں کی جگہ بچھو لگاتا ہے اندھیرے اور اجالے ہے وہ ہے وہ یہ سمجھوتا ضروری ہے نشانے ہم لگاتے ہیں ٹھکانے تو لگاتا ہے

Rahat Indori

4 likes

چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیا تو آئی لگ سارے شہر کی بینائی لے گیا تو ڈوبے ہوئے جہاز پہ کیا تبصرہ کریں یہ حادثہ تو سوچ کی گہرائی لے گیا تو حالانکہ بے زبان تھا لیکن عجیب تھا جو بے وجہ مجھ سے چھین کے گویائی لے گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج اپنے گھر سے نکلنے لگ پاؤں گا ب سے اک قمیص تھی جو میرا بھائی لے گیا تو تاکتے تمہارے واسطے اب کچھ نہیں رہا گلیوں کے سارے سنگ تو سودائی لے گیا تو

Rahat Indori

19 likes

جو منصبوں کے پجاری پہن کے آتے ہیں کلاہ طوق سے بھاری پہن کے آتے ہیں امیر شہر تری طرح قیمتی پوشاک مری گلی ہے وہ ہے وہ بھکاری پہن کے آتے ہیں یہی عقیق تھے جھونپڑیوں کے تاج کی ظفر جو انگلیوں ہے وہ ہے وہ مداری پہن کے آتے ہیں ہمارے جسم کے داغوں پہ تبصرہ کرنے قمیصیں لوگ ہماری پہن کے آتے ہیں عبادتوں کا تحفظ بھی ان کے زممے ہے جو مسجدوں ہے وہ ہے وہ صفاری پہن کے آتے ہیں

Rahat Indori

2 likes

حقیقت اک اک بات پہ رونے لگا تھا سمندر رکھ کھونے لگا تھا لگے رہتے تھے سب دروازے پھروں بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھیں کھول کر سونے لگا تھا چراتا ہوں اب آنکھیں آئینوں سے خدا کا سامنا ہونے لگا تھا حقیقت اب آئینے دھوتا پھروں رہا ہے اسے چہرے پہ شک ہونے لگا تھا مجھے اب دیکھ کر ہنستی ہے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کے سامنے رونے لگا تھا

Rahat Indori

0 likes

فیصلے لمحات کے جالے پہ بھاری ہوں گئے باپ حاکم تھا م گر بیٹے بھکاری ہوں گئے دیویان پہنچیں تھیں اپنے بال بکھرائے ہوئے دیوتا مندیر سے نکلے اور پجاری ہوں گئے روشنی کی جنگ ہے وہ ہے وہ تاریکیاں پیدا ہوئیں چاند پاگل ہوں گیا تو تارے بھکاری ہوں گئے رکھ دیے جائیں گے نیزے لفظ اور ہونٹوں کے بیچ ظل سبحانی کے احکامات جاری ہوں گئے نرم و چھوؤں گا ہلکے پھلکے روئی چنو خواب تھے آنسوؤں ہے وہ ہے وہ بھیگنے کے بعد بھاری ہوں گئے

Rahat Indori

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rahat Indori.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.