سکون سے رات بتاتے تھے موج کرتے تھے جب ا سے کے خواب لگ آتے تھے موج کرتے تھے فضول آ گئے صحرا سے شہر ہے وہ ہے وہ ہم لوگ و ہاں پہ خاک اڑاتے تھے موج کرتے تھے گھیرے ہوئے ہیں زمانے کے اب عذابوں سے یہ لوگ ناچتے گاتے تھے موج کرتے تھے کسی کے رنگ ہے وہ ہے وہ ڈھلنے سے ہوں گئے بے رنگ ہم اپنے رنگ بناتے تھے موج کرتے تھے امیر شہر کے پکوان سے ہوئے بیمار نمک سے روٹیاں کھاتے تھے موج کرتے تھے ہم ا سے کی بزم ہے وہ ہے وہ تاخیر سے گئے ہر بار جو لوگ سمے پہ آتے تھے موج کرتے تھے
Related Ghazal
کوئی حسین تو کوئی دردناک سمجھےگا میرا مزاج وہی ٹھیک ٹھاک سمجھےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے ساتھ کئی راتوں سے ہوں ا سے کا نام بتا تو دوں گا م گر تو مزاق سمجھےگا حقیقت ج سے حساب سے گاتا ہے ا سے سے لگتا ہے کہ مری دکھ کو تو ب سے لڑکھڑاتے پراک سمجھےگا
Kushal Dauneria
36 likes
جہاں جہاں پہ تجھے غیر نے چھوا ہوا تھا وہاں وہاں پہ میرا جسم بھی جلا ہوا تھا شکست ہونی تھی یہ میرا پہلا عشق تھا اور حقیقت بےوفا یہی کرتے ہوئے بڑا ہوا تھا پھروں ایک روز مجھے یہ پتا لگا ا سے کے پرانی عاشقوں کے ساتھ بھی برا ہوا تھا پتا کے کہنے سے لڑکی نے گھر بسا لیا پر ماں ا سے کہانی ہے وہ ہے وہ لڑکے کے ساتھ کیا ہوا تھا
Kushal Dauneria
36 likes
دل پھروں اس کا کوچے ہے وہ ہے وہ جانے والا ہے بیٹھے بٹھائے ٹھوکر خانے والا ہے ترک تعلق کا دھڑکا سا ہے دل کو حقیقت مجھ کو اک بات بتانے والا ہے کتنے ادب سے بیٹھے ہیں سوکھے پودے چنو بادل شعر سنہانے والا ہے یہ مت سوچ سرائے پر کیا بیتےگی تو تو بس اک رات بتانے والا ہے اینٹوں کو آپس ہے وہ ہے وہ ملانے والا بے وجہ اصل ہے وہ ہے وہ اک دیوار اٹھانے والا ہے گاڑی کی رفتار ہے وہ ہے وہ آئی ہے سستی شاید اب اسٹیشن آنے والا ہے آخری ہچکی لینی ہے اب آ جاؤ بعد ہے وہ ہے وہ جاناں کو کون بلانے والا ہے
Zubair Ali Tabish
33 likes
غم کی دولت مفت لٹا دوں بلکل نہیں اشکوں ہے وہ ہے وہ یہ درد بہا دوں بلکل نہیں تو نے تو اوقات دکھا دی ہے اپنی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا گاہے گرا دوں بلکل نہیں ایک نجومی سب کو خواب دکھاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اپنا ہاتھ دکھا دوں بلکل نہیں مری اندر اک خموشی چیختی ہے تو کیا ہے وہ ہے وہ بھی شور مچا دوں بلکل نہیں
Mehshar Afridi
49 likes
تری جیسا کوئی ملا ہی نہیں کیسے ملتا کہی پہ تھا ہی نہیں گھر کے ملبے سے گھر بنا ہی نہیں زلزلے کا اثر گیا تو ہی نہیں مجھ پہ ہوں کر گزر گئی دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری راہ سے ہٹا ہی نہیں کل سے مصروف خیریت ہے وہ ہے وہ ہوں شعر تازہ کوئی ہوا ہی نہیں رات بھی ہم نے ہی صدارت کی بزم ہے وہ ہے وہ اور کوئی تھا ہی نہیں یار جاناں کو ک ہاں ک ہاں ڈھونڈا جاؤ جاناں سے ہے وہ ہے وہ بولتا ہی نہیں یاد ہے جو اسی کو یاد کروں ہجر کی دوسری دوا ہی نہیں
Fahmi Badayuni
33 likes
More from Varun Anand
کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے
Varun Anand
11 likes
کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے
Varun Anand
21 likes
یہ شوخیاں یہ جوانی ک ہاں سے لائیں ہم تمہارے حسن کا ثانی ک ہاں سے لائیں ہم محبتیں حقیقت پرانی ک ہاں سے لائیں ہم رکی ن گرا ہے وہ ہے وہ روانی ک ہاں سے لائیں ہم ہماری آنکھ ہے پیوسٹ ایک صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ایسی آنکھ ہے وہ ہے وہ پانی ک ہاں سے لائیں ہم ہر ایک لفظ کے معنی تلاشتے ہوں جاناں ہر ایک لفظ کا معنی ک ہاں سے لائیں ہم چلو بتا دیں زمانے کو اپنے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ روز جھوٹی کہانی ک ہاں سے لائیں ہم
Varun Anand
13 likes
مرہم کے نہیں ہیں یہ طرف دار نمک کے نکلے ہیں مری زخم طلبگار نمک کے آیا کوئی سیلاب کہانی ہے وہ ہے وہ اچانک اور گھل گئے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت کردار نمک کے دونوں ہی کناروں پہ تھی بیماروں کی مجلس اس کا کا پار تھے میٹھے کے تو اس کا پار نمک کے اس کا کا نے ہی دیے زخم یہ گردن پہ ہماری پھروں اس کا نے ہی پہنائے ہمیں ہار نمک کے کہتی تھی غزل مجھ کو ہے مرہم کی ضرورت اور دیتے رہے سب اسے اشعار نمک کے جس سمت ملا کرتی تھیں زخموں کی دوائیں سنتے ہیں کہ اب ہیں وہاں بازار نمک کے
Varun Anand
9 likes
سخی کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے مؤی کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے اداسی ساتھ چلتی ہے ہمارے خوشی کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے سبھی کہنے کو مری ہم قدم ہیں سبھی کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے حقیقت ج سے کے ساتھ گھر سے بھاگنا تھا اسی کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے سمندر سے کہو خود آئی ملنے ن گرا کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے کسی کے پاؤں بھیگے ہیں لہو سے کسی کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے
Varun Anand
26 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Varun Anand.
Similar Moods
More moods that pair well with Varun Anand's ghazal.







