تن سے جب تک سان سے کا رشتہ رہے گا مری اشکوں ہے وہ ہے وہ ترا حصہ رہے گا دور تک کوئی شناسا ہوں نہیں ہوں بھیڑ ہے وہ ہے وہ اچھا م گر لگتا رہے گا ایسے چھٹکارا نہیں دینا ہے ا سے کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر مر جاؤں تو کیسا رہے گا طے تو ہے الگاو ب سے یہ سوچنا ہے کون سی رت ہے وہ ہے وہ یہ دکھ اچھا رہے گا خود سے مری صلح ممکن ہی نہیں ہے جب تلک ا سے گھر ہے وہ ہے وہ آئی لگ رہے گا یوں تو اب بستر ہے اور بیمار لیکن سان سے لینے ہے وہ ہے وہ مزہ آتا رہے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کتنے دن کسی کو یاد رکھا حقیقت بھی کیوں مری لیے روتا رہے گا
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
More from Shariq Kaifi
تری طرف سے تو ہاں مان کر ہی چلنا ہے کہ سارا کھیل ا سے امید پر ہی چلنا ہے قدم ٹھہر ہی گئے ہیں تری گلی ہے وہ ہے وہ تو پھروں ی ہاں سے کوئی دعا مانگ کر ہی چلنا ہے رہے ہوں ساتھ تو کچھ سمے اور دے دو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں سے لوٹ کے ب سے اب تو گھر ہی چلنا ہے مخالفت پہ ہواؤں کی کیوں پریشاں ہوں تمہاری سمت ا گر عمر بھر ہی چلنا ہے کوئی امید نہیں کھڑ کیوں کو بند کروں کہ اب تو دشت بلا کا سفر ہی چلنا ہے ذرا سا قرب میسر تو آئی ا سے کا مجھے کہ ا سے کے بعد زبان کا ہنر ہی چلنا ہے
Shariq Kaifi
8 likes
گزر رہا ہے حقیقت لمحہ تو یاد آیا ہے ا سے ایک پل سے کبھی کتنا خوف کھایا ہے اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھر اسی نگاہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ نظر بھی آیا ہے یہ طنز یوں بھی ہے اک امتحاں مری لیے تری لبوں سے کوئی اور مسکرایا ہے بہے رقیب کے آنسو بھی مری گالوں پر یہ سانحہ بھی محبت ہے وہ ہے وہ پیش آیا ہے یہ کوئی اور ہے تیری طرف سرکتا ہوا اندھیرا ہوتے ہی جو مجھ ہے وہ ہے وہ آ سمایا ہے ہمارے عشق سے مرعوب ا سے دودمان بھی لگ ہوں یہ خوں تو ایک اداکار نے بہایا ہے ی ہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیں حقیقت کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا ہے بے حد سے بوجھ ہیں دل پر یہ کوئی ایسا نہیں یہ دکھ کسی نے ہمارے لیے اٹھایا ہے
Shariq Kaifi
4 likes
لوگ سہ لیتے تھے ہنسکر کبھی بے زاری بھی اب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی وار کچھ خالی گئے مری تو پھروں آ ہی گئی اپنے دشمن کو دعا دینے کی ہوشیاری بھی عمر بھر ک سے نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھے سمے کم ہوں تو سجا دیتی ہے بیماری بھی ک سے طرح آئی ہیں ا سے پہلی ملاقات تلک اور مکمل ہے جدا ہونے کی تیاری بھی اوب جاتا ہوں ذہانت کی نمائش سے تو پھروں لطف دیتا ہے یہ لہجہ مجھے بازاری بھی عمر بڑھتی ہے م گر ہم وہیں ٹھہرے ہوئے ہیں ٹھوکریں خائی تو کچھ آئی سمجھداری بھی اب جو کردار مجھے کرنا ہے مشکل ہے بے حد مست ہونے کا دکھاوا بھی ہے سر بھاری بھی
Shariq Kaifi
3 likes
کم سے کم دنیا سے اتنا میرا رشتہ ہوں جائے کوئی میرا بھی برا چاہنے والا ہوں جائے اسی مجبوری ہے وہ ہے وہ یہ بھیڑ اکٹھا ہے ی ہاں جو تری ساتھ نہیں آئی حقیقت تنہا ہوں جائے شکر ا سے کا ادا کرنے کا خیال آئی کسے ابر جب اتنا شوالہ ہوں کہ اندھیرا ہوں جائے ہاں نہیں چاہیے ا سے درجہ محبت تیری کہ میرا سچ بھی تری جھوٹ کا حصہ ہوں جائے بند آنکھوں نے سرابوں سے بچایا ہے مجھے آنکھ والا ہوں تو ا سے کھیل ہے وہ ہے وہ اندھا ہوں جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اللہ ری ہوں تری بات سمجھ سکتا ہوں یہ کہ مٹ جانے کے ڈر سے کوئی دریا ہوں جائے ب سے اسی بات پہ آئینوں سے بگڑی مری چاہتا تھا میرا اپنا کوئی چہرہ ہوں جائے پھری ہے وہ ہے وہ یہی رنگ تو دیتے ہیں مزہ کوئی روئے تو ہنسی سے کوئی دوہرا ہوں جائے
Shariq Kaifi
0 likes
کچھ قدم اور مجھے جسم کو ڈھونا ہے ی ہاں ساتھ لایا ہوں اسی کو جسے کھونا ہے ی ہاں بھیڑ چھٹ جائے گی پل ہے وہ ہے وہ یہ خبر اڑتے ہی اب کوئی اور تماشا نہیں ہونا ہے ی ہاں یہ بھنور کون سا اندھیرا مجھے دے سکتا ہے بات یہ ہے کہ مجھے خود کو ڈبونا ہے ی ہاں کیا ملا دشت ہے وہ ہے وہ آ کر تری دیوانے کو گھر کے جیسا ہی ا گر جاگنا سونا ہے ی ہاں کچھ بھی ہوں جائے لگ مانوں گا م گر جسم کی بات آج مجرم تو کسی اور کو ہونا ہے ی ہاں یوں بھی درکار ہے مجھ کو کسی بینائی کا لم سے اب کسی اور کا ہونا میرا ہونا ہے ی ہاں خوشی پلکوں پہ سجا لوں ہے وہ ہے وہ ابھی سے شریک شب ہے باقی تو ترا ذکر بھی ہونا ہے ی ہاں
Shariq Kaifi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shariq Kaifi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shariq Kaifi's ghazal.







