unhen kyuun phuul dushman eid men pahnae jaate hain vo shakh-e-gul ki surat naaz se bal khaae jaate hain agar ham se khushi ke din bhi vo ghabrae jaate hain to kya ab eid milne ko farishte aae jaate hain vo hans kar kah rahe hain mujh se sun kar ghhair ke shikve ye kab kab ke fasane eid men dohrae jaate hain na chhed itna unhen ai vaada-e-shab ki pashemani ki ab to eid milne par bhi vo sharmae jaate hain 'qamar' afshan chuni hai rukh pe us ne is saliqe se sitare asman se dekhne ko aae jaate hain unhen kyun phul dushman eid mein pahnae jate hain wo shakh-e-gul ki surat naz se bal khae jate hain agar hum se khushi ke din bhi wo ghabrae jate hain to kya ab eid milne ko farishte aae jate hain wo hans kar kah rahe hain mujh se sun kar ghair ke shikwe ye kab kab ke fasane eid mein dohrae jate hain na chhed itna unhen ai wada-e-shab ki pashemani ki ab to eid milne par bhi wo sharmae jate hain 'qamar' afshan chuni hai rukh pe us ne is saliqe se sitare aasman se dekhne ko aae jate hain
Related Ghazal
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
More from Qamar Jalalvi
کبھی جو آنکھ پہ گیسو یار ہوتا ہے شراب خانے پہ ابر بہار ہوتا ہے کسی کا غم ہوں مری دل پہ بار ہوتا ہے اسی کا نام غرق دریا ہوتا ہے الہی خیر ہوں ان بے زبان اسیروں کی قف سے کے سامنے ذکر بہار ہوتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ ایسے بھی دو چار ہیں چمن والے کہ جن کو تہذیب ناگوار ہوتا ہے سوال جام تری مختلف ہے وہ ہے وہ اے ساقی جواب گردش لیل و نہار ہوتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وفا پہ وفا آج تک لگ را سے آئی ا نہیں ستم پہ ستم سازگار ہوتا ہے لبوں پہ آ گیا تو دم بند ہوں چکیں آنکھیں چلے بھی آؤ کہ ختم انتظار ہوتا ہے ک ہاں حقیقت وصل کی راتیں ک ہاں یہ ہجر کے دن خیال گردش لیل و نہار ہوتا ہے جنوں تو ایک بڑی چیز ہے محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ذرا سے خوشی سے راز آشکار ہوتا ہے مری جنازے کو دیکھا تو یا سے سے بولے ی ہاں پہ آدمی بے اختیار ہوتا ہے خدا رکھے تمہیں کیا کوئی جور بھول گئے جو اب تلاش ہمارا مزار ہوتا ہے ہمارا زور ہے کیا باغباں اٹھا لیںگے یہ آشیاں جو تجھے ناگوار ہوتا ہے عجیب کش مکش بحر غم ہے وہ ہے وہ دل
Qamar Jalalvi
1 likes
کب میرا نشمن اہل چمن گلشن ہے وہ ہے وہ بے شرط کرتے ہیں غنچے اپنی آوازوں ہے وہ ہے وہ بجلی کو پکارا کرتے ہیں اب نزع کا عالم ہے مجھ پر جاناں اپنی محبت واپ سے لو جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ جاناں اٹھ کے آ لگ سکے دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف بے شرط کرتے ہیں بے وجہ لگ جانے کیوں ضد ہے ان کو شب فرقت والوں سے حقیقت رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں پونچھو لگ ارق رخساروں سے رنگینی حسن کو بڑھنے دو سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں کچھ حسن و عشق ہے وہ ہے وہ فرق نہیں ہے بھی تو فقط رسوائی کا جاناں ہوں کہ بے شرط کر لگ سکے ہم ہیں کہ بے شرط کرتے ہیں تاروں کی بہاروں ہے وہ ہے وہ بھی قمر جاناں افسردہ سے رہتے ہوں پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں ہے وہ ہے وہ ہن سے ہن سے کے گزارا کرتے ہیں
Qamar Jalalvi
1 likes
سرخیاں کیوں ڈھونڈ کر لاؤں فسانے کے لیے ب سے تمہارا نام کافی ہے زمانے کے لیے ہے ساحل سے ہٹاتی ہیں حبابوں کا ہجوم حقیقت چلے آئی ہیں ساحل پر نہانے کے لیے سوچتا ہوں اب کہی بجلی گری تو کیوں گری تنکے لایا تھا ک ہاں سے آشیانے کے لیے چھوڑ کر بستی یہ دیوانے ک ہاں سے آ گئے دشت کی بیٹھی بٹھائی خاک اڑانے کے لیے ہن سے کے کہتے ہوں زما لگ بھر مجھہی پر جان دے رہ گئے ہوں کیا تمہیں سارے زمانے کے لیے شام کو آوگے جاناں اچھا ابھی ہوتی ہے شام گیسوؤں کو کھول دو سورج چھپانے کے لیے کائنات عشق اک دل کے سوا کچھ بھی نہیں حقیقت ہی آنے کے لیے ہے حقیقت ہی جانے کے لیے اے زمانے بھر کو خوشیاں دینے والے یہ بتا کیا قمر ہی رہ گیا تو ہے غم اٹھانے کے لیے
Qamar Jalalvi
0 likes
کبھی کہا لگ کسی سے تری فسانے کو لگ جانے کیسے خبر ہوں گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہی جگہ لگ رہی مری آشیانے کو مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے حضور شمع لگ لایا کریں جلانے کو سنا ہے غیر کی محفل ہے وہ ہے وہ جاناں لگ جاؤگے کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو دبا کے قبر ہے وہ ہے وہ سب چل دیے دعا لگ سلام بخیر ذرا سی دیر ہے وہ ہے وہ کیا ہوں گیا تو زمانے کو اب آگے ا سے ہے وہ ہے وہ تمہارا بھی نام آئےگا جو حکم ہوں تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو قمر ذرا بھی نہیں جاناں کو خوف رسوائی چلے ہوں چاندنی شب ہے وہ ہے وہ ا نہیں بلانے کو
Qamar Jalalvi
1 likes
کسی صورت سحر نہیں ہوتی رات ادھر سے ادھر نہیں ہوتی خوف صیاد سے لگ برق کا ڈر بات یہ اپنے گھر نہیں ہوتی ایک حقیقت ہیں کہ روز آتے ہیں ایک ہم ہیں خبر نہیں ہوتی اب ہے وہ ہے وہ سمجھا ہوں کاٹ کر شب غم زندگی بڑھوا نہیں ہوتی کتنی پابند وضع ہے شب غم کبھی غیروں کے گھر نہیں ہوتی کتنی سیدھی ہے راہ ملک عدم حاجت راہبر نہیں ہوتی سن لیا ہوگا جاناں نے حال مریض اب دوا کار گر نہیں ہوتی عرش ملتا ہے مری آ ہوں سے لیکن ان کو خبر نہیں ہوتی
Qamar Jalalvi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Qamar Jalalvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Qamar Jalalvi's ghazal.







