آ جا ری چڑیا آ جا ری چڑیا منڈیر پر کیوں کرتی ہے چوں چوں آ جا تجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دا لگ کھلاؤں روٹی کے بھورے چھت پر بکھیرؤں لے اپنا خاجہ کھا جا ری چڑیا سن لے ری چڑیا سن لے ری چڑیا کیا نہنہے نہنہے بچے ہیں تری کرتے ہیں چیں چیں اتنے سویرے لے ہے وہ ہے وہ نے گہیوں چھت پر ناری یہ دانے دونکے چن لے ری چڑیا سن لے ری چڑیا سن لے ری چڑیا آ پیاری چڑیا آ پیاری چڑیا اڑ اڑ کے آنا مڑ مڑ کے جانا بچوں کو اپنے دا لگ کھلانا لگتا ہے جی کو کیسا سہانا کیا پیارا پیارا ہے تیرا گانا گا خوب دن بھر گا پیاری چڑیا آ پیاری چڑیا آ پیاری چڑیا اڑ جا ری چڑیا اڑ جا ری چڑیا حقیقت مانو بلی بیٹھی ہے دبکی تجھ کو پکڑ کر ب سے کھا ہی لےگی مٹی کے اوپر جا بیٹھ اونچی نیچے لگ آنا مڑ جا ری چڑیا اڑ جا ری چڑیا اڑ جا ری چڑیا
Related Nazm
میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے گزرتی عمر ڈھلتی جا رہی ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پاؤں نگلتی جا رہی ہے اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے پری آگے نکلتی جا رہی ہے ستارے تم تم باری باری بجھ رہے ہیں ہوا مؤثر ہوتی جا رہی ہے چمکتی ہوئی جا رہی ہے کوئی مچھلی سمندر برف کرتی جا رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ناو ہے وہ ہے وہ بیک سے پڑا ہوں افکتی نبض ڈوبی جا رہی ہے اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے اندھیرا ہی سمندر کا خدا ہے خدا مچھلی پکڑنا چاہتا ہے
Ammar Iqbal
13 likes
لوٹ آنا سکھ ا نہیں بھی کب ملا ہے پر پتا نے یہ لکھا ہے دیکھ تو چنتا لگ کرنا ا سے سمے دھیراج سا دھرنا ہے نشا کا گھور ڈیرا دور دکھتا ہے سویرہ بھول لگ جاناں یہ نہیں پر کال کی گتی ہے نرنتر کچھ ی ہاں رکتا نہیں ہے کل کہی تھا کل کہی ہے یاد رکھنا بات مری سکھ کا آنا اور دیری یہ نیم کب ٹوٹتا ہے ہر کسی پر بیتتا ہے پران ہے تو ب سے ہمارا آنکھ کا اوجھل ستارہ دھیرج تو کیوں کھو رہا ہے ا سے طرح کیوں رو رہا ہے پران اپنے کھو پڑوںگا تو جو رویا رو پڑوںگا ہارنے کا بے لگ کرنا دورگموں کی جے لگ کرنا شیل ہی تیرا پتا ہوں پر ن گرا کو راستہ ہوں یہ لگ راہ منزل کیا ک ہاں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں ہوں ماں ی ہاں ہے بوجھ یاد بھاری لگے تو یاد تھکن ہاری لگے تو ہر تپن کو بھول جانا دکھ ملے تو لوٹ آنا دکھ ملے تو لوٹ آنا
Abhishar Geeta Shukla
10 likes
مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں
Tehzeeb Hafi
161 likes
کچی عمر کے پیار یہ کچی عمر کے پیار بھی بڑے پکے نشان دیتے ہیں آج پر کم دھیان دیتے ہیں بہکے بہکے نقص دیتے ہیں ان کو دیکھے ہوئے مدت ہوئی اور ہم اب بھی جان دیتے ہیں کیا پیار ایک بار ہوتا ہے نہیں یہ بار بار ہوتا ہے تو پھروں کیوں کسی ایک کا انتظار ہوتا ہے وہی تو سچا پیار ہوتا ہے اچھا پیار بھی کیا انسان ہوتا ہے کبھی سچا کبھی جھوٹا بے ایمان ہوتا ہے ا سے کی رگوں ہے وہ ہے وہ بھی کیا خاندان ہوتا ہے اور مقصد حیات نفع نقصان ہوتا ہے پیار تو پیار ہوتا ہے
Yasra rizvi
47 likes
More from Hafeez Jalandhari
عمارت اور شوکت اور سرمائے کی تصویریں یہ ایوانات سب ہیں حال ہی کی تازہ تع مری ادھر کچھ فاصلے پر چند گھر تھے کاشت کاروں کے ج ہاں اب کار خا لگ بن گئے سرمایہ داروں کے مویشی ہوں گئے نیلام کیوں یہ کوئی کیا جانے کچہری جانے ساہوکار جانے یا خدا جانے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ داروں کو جا کر دیکھ لے جو بھی کوئی چاہے نئے بھٹوں ہے وہ ہے وہ اینٹیں تھاپتے پھرتے ہیں حلواہے ی ہاں اپنے پرانی گاؤں کا اب کیا رہا باقی یہی تکیہ یہی اک ہے وہ ہے وہ یہی اک جھونپڑا باقی عظیم الشان بستی ہے یہ گرماےگی ویرا لگ ی ہاں ہم اجنبی دونوں ہیں ہے وہ ہے وہ اور میرا کاشا لگ
Hafeez Jalandhari
1 likes
لحد ہے وہ ہے وہ سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کا کی مگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کا کی حقیقت اک فانی بشر تھا ہے وہ ہے وہ یہ ہوا شوق کر نہیں سکتا بشر حفیظ ہوں جائے تو ہرگز مر نہیں سکتا ب زیر سایہ دیوار مسجد ہے جو آسودہ یہ خاکی جسم ہے ستر برس کا راہ پیمودہ یہ خاکی جسم بھی اس کا کا بہت ہی بیش قیمت تھا جسے ہم جلوہ سمجھے تھے حقیقت پردہ بھی غنیمت تھا اسے ہم ناپتے تھے لے کے آنکھوں ہی کا پیمانہ غزل خواں اس کا کو جانا ہم نے شاعر اس کا کو گردانہ فقط صورت ہی دیکھی اس کا کے معنی ہم نہیں سمجھے نہ دیکھا رنگ تصویر آئینے کو دل نشیں سمجھے ہمیں زوف بصارت سے کہاں تھی تاب نظارہ سکھائے اس کا کے پردے نے ہمیں آداب نظارہ یہ نغمہ کیا ہے زیر پردہ ہا ساز کم سمجھے رہے سب گوش بر آواز لیکن راز کم سمجھے شکست پیکر محسوس نے توڑا حجاب آخر طلوع صبح محشر بن کے چمکا آفتاب آخر مقید اب نہیں حفیظ اپنے جسم فانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں حقیقت بند حائل آج دریا کی روانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجود مرگ کی قائل نہیں تھی زندگی اس کا کی عارف اعلیٰ اللہ اب دیکھے کوئی پا
Hafeez Jalandhari
0 likes
اے دیکھنے والو ا سے حسن کو دیکھو ا سے راز کو سمجھو یہ نقش خیالی یہ فکرت عالی یہ پیکر تنویر یہ کرشن کی تصویر معنی ہے کہ صورت صنعت ہے کہ فطرت ظاہر ہے کہ مستور نزدیک ہے یا دور یہ نار ہے یا نور دنیا سے نرالا یہ بانسری والا گوکل کا گوالا ہے سحر کہ اعزاز کھلتا ہی نہیں راز کیا شان ہے واللہ کیا آن ہے واللہ حیران ہوں کیا ہے اک شان خدا ہے بت خانے کے اندر خود حسن کا بت گر بت بن گیا تو آ کر حقیقت طرفہ نظارے یاد آ گئے سارے جمنا کے کنارے سبزے کا لہکنا پھولوں کا مہکنا گھنگھور گھٹائیں سرمست ہوائیں معصوم امنگیں الفت کی ترنگیں حقیقت گوپیوں کے ساتھ ہاتھوں ہے وہ ہے وہ دیے ہاتھ رقصاں ہوا بریجناتھ بنسری ہے وہ ہے وہ جو لے ہے نشہ ہے لگ مے ہے کچھ اور ہی اجازت ہے اک روح ہے رقصاں اک کیف ہے لرزاں ایک عقل ہے مے نوش اک ہوش ہے مدہوش اک خندہ ہے سیال اک گریہ ہے خوشحال اک عشق ہے مغرور اک حسن ہے مجبور اک سحر ہے مسحور دربار ہے وہ ہے وہ تنہا لاچار ہے اندھیرا آ شیام ادھر آ<br
Hafeez Jalandhari
0 likes
ایک بے تکی نجم آج بستر ہی ہے وہ ہے وہ ہوں کر دیا ہے آج مری ٹھہرنے اعضا نے اظہار بغاوت برملا میرا جسم نا تواں میرا غلام با وفا واقعی معلوم ہوتا ہے تھکا ہارا ہوا اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک سخت گیر بے چارگی دوش زمانے کا غلام ک سے دودمان مجبور ہوں پیٹ پوجا کے لیے دو قدم بھی اٹھ کے جا سکتا نہیں مری چا کر پاؤں شل ہیں جھک گیا تو ہوں ان کمینوں کی رضا کے سامنے سر اٹھا سکتا نہیں آج بستر ہی ہے وہ ہے وہ ہوں
Hafeez Jalandhari
0 likes
دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری آ ہا جی گل ناری چنری رنگ رنگیلی پیاری چنری ململ کی اک تاری چنری چھوؤں گا چھوؤں گا ساری چنری دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری امی کے کچھ جی ہے وہ ہے وہ آیا گوٹے کا اک تھان منگایا چنری پر سارا چپکایا ہر کونے پر پھول بنایا دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری لچکا ہے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ لچکتا گوٹا ہے کندن سا دمکتا روشنی ہے وہ ہے وہ کیسا ہے چمکتا ہاتھ لگانے سے ہے مسکتا دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری ا سے کو خراب ہونے لگ دوںگی بیٹھوںگی تو سنبھال رکھوںگی گھر ہے وہ ہے وہ جا کر رکھ چھوڑوںگی اور تہوار کے دن اوڑھوںگی دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری
Hafeez Jalandhari
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.
Similar Moods
More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's nazm.







