nazmKuch Alfaaz

"हिज्र मनाने क्यूँँ नहीं देते" जानाँ ये मेरे आस-पास जमा ख़ुशनुमाँ लोग तुम्हारा हिज़्र मनाने क्यूँँ नहीं देते ये मुझे रोने क्यूँँ नहीं देते? गर सीने में दर्द हो तो रोना ज़ब्त क्यूँँ हो? इन्हें तो मालूम ही नहीं रोते क्यूँँ है दर्द कैसा होता है जीते-जी मौत क्या होती है तुम तो जानती हो जानाँ आओ और इन्हें बतलाओ ये मेरे आस-पास जमा ख़ुशनुमां लोग तुम्हारा हिज़्र मनाने क्यूँँ नहीं देते ये मुझे रोने क्यूँँ नहीं देते? गर रोना ज़ब्त है चश्मा नम क्यूँँ बनाया गया? इन लोगों को भी तो कभी आता होगा रोना फिर मुझे क्यूँँ रोकते हैं? तुम्हीं बतलाओ जानाँ जिस का दिल मर चुका हो दुनियां नज़रो के सामने राख़ हो जाए वो जो अपनी हालत पर ग़ौर करने से डरता हो लोगों के कह-कहों से सहम जाता हो जिस के सीने में दर्द ठहरा हो जो पलकें झपकने से भी डरता हो जिस की आँखों में अब मौत ख़्वाब बनकर रहती हो शीशों से भी खौफ़ खाने लगे क्या करे...गर आँसू आने लगें? तुम तो जानती हो जानाँ आओ और इन्हें बतलाओ इन्हें बतलाओ कि क्यूँँ नाला-ए-दर्द गले में ख़राशें न डाले? चीख-चीख कर कोई क्यूँँ सीने में दरारें ना डाले? आँसुओं के ज़ोर से चश्में चटखा ना डाले? मैं रोता हूँ... हाँ क्यूँँकि मेरे आब दीदा हैं इन में इतना पानी है कि सब कुछ बहा सकता हूँ फिर क्यूँँ ये दर्द नहीं बहा सकता? तुम्हारा हिज़्र नहीं मना सकता? तुम तो जानती हो जानाँ आओ और इन्हें बतलाओ ये मेरे आस-पास जमा ख़ुशनुमां लोग तुम्हारा हिज़्र मनाने क्यूँँ नहीं देते ये मुझे रोने क्यूँँ नहीं देते?

Related Nazm

تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے

Tehzeeb Hafi

180 likes

رمز جاناں جب آوگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے مری تنہائی ہے وہ ہے وہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں مری کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان ہے وہ ہے وہ اک رمز ہے ج سے رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی ہے وہ ہے وہ کبھی آرام نہیں پا سکتا

Jaun Elia

216 likes

یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں

Khalil Ur Rehman Qamar

191 likes

राइगानी मैं कमरे में पिछले इकत्तीस दिनों से फ़क़त इस हक़ीक़त का नुक़सान गिनने की कोशिश में उलझा हुआ हूँ कि तू जा चुकी है तुझे राइगानी का रत्ती बराबर अंदाज़ा नहीं है तुझे याद है वो ज़माना जो कैम्पस की पगडंडियों पे टहलते हुए कट गया था तुझे याद है कि जब क़दम चल रहे थे कि एक पैर तेरा था और एक मेरा क़दम वो जो धरती पे आवाज़ देते कि जैसे हो रागा कोई मुतरीबों का क़दम जैसे के सा पा गा मा पा गा सा रे वो तबले की तिरखट पे तक धिन धिनक धिन तिनक धिन धना धिन बहम चल रहे थे, क़दम चल रहे थे क़दम जो मुसलसल अगर चल रहे थे तो कितने गवइयों के घर चल रहे थे मगर जिस घड़ी तू ने उस राह को मेरे तन्हा क़दम के हवाले किया उन सुरों की कहानी वहीं रुक गई कितनी फनकारियाँ कितनी बारीकियाँ कितनी कलियाँ बिलावल गवईयों के होंठों पे आने से पहले फ़ना हो गए कितने नुसरत फ़तह कितने मेहँदी हसन मुन्तज़िर रह गए कि हमारे क़दम फिर से उठने लगें तुझ को मालूम है जिस घड़ी मेरी आवाज़ सुन के तू इक ज़ाविये पे पलट के मुड़ी थी वहाँ से, रिलेटिविटी का जनाज़ा उठा था कि उस ज़ाविये की कशिश में ही यूनान के फ़लसफ़े सब ज़मानों की तरतीब बर्बाद कर के तुझे देखने आ गए थे कि तेरे झुकाव की तमसील पे अपनी सीधी लकीरों को ख़म दे सकें अपनी अकड़ी हुई गर्दनों को लिए अपने वक़्तों में पलटें, जियोमैट्री को जन्म दे सकें अब भी कुछ फलसफ़ी अपने फीके ज़मानों से भागे हुए हैं मेरे रास्तों पे आँखें बिछाए हुए अपनी दानिस्त में यूँँ खड़े हैं कि जैसे वो दानिश का मम्बा यहीं पे कहीं है मगर मुड़ के तकने को तू ही नहीं है तो कैसे फ्लोरेन्स की तंग गलियों से कोई डिवेन्ची उठे कैसे हस्पानिया में पिकासु बने उन की आँखों को तू जो मुयस्सर नहीं है ये सब तेरे मेरे इकट्ठे ना होने की क़ीमत अदा कर रहे हैं कि तेरे ना होने से हर इक ज़मा में हर एक फ़न में हर एक दास्ताँ में कोई एक चेहरा भी ताज़ा नहीं है तुझे राइगानी का रत्ती बराबर अंदाज़ा नहीं है

Sohaib Mugheera Siddiqi

73 likes

مریم ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئینوں سے گریز کرتے ہوئے پہاڑوں کی کوکھ ہے وہ ہے وہ سان سے لینے والی ادا سے جھیلوں ہے وہ ہے وہ اپنے چہرے کا عک سے دیکھوں تو سوچتا ہوں کہ مجھ ہے وہ ہے وہ ایسا بھی کیا ہے مریم تمہاری بے ساختہ محبت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ پھیلے ہوئے سمندر کی وسعتوں سے بھی ماورا ہے محبتوں کے سمندروں ہے وہ ہے وہ ب سے ایک بحرہ ہجر ہے جو برا ہے مریم خلا نوردوں کو جو ستارے تم معاوضے ہے وہ ہے وہ ملے تھے حقیقت ان کی روشنی ہے وہ ہے وہ یہ سوچتے ہیں کہ سمے ہی تو خدا ہے مریم اور ا سے مقدم کی گٹھریوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رکی ہوئی ساعتوں سے ہٹکر مری لیے اور کیا ہے مریم ابھی بے حد سمے ہے کہ ہم سمے دے ذرا اک دوسرے کو م گر ہم اک ساتھ رہ کر بھی خوش لگ رہ سکے تو معاف کرنا کہ ہے وہ ہے وہ نے بچپن ہی دکھ کی دہلیز پر گزارا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان چراغوں کا دکھ ہوں جن کی لوے شب انتظار ہے وہ ہے وہ بجھ گئی م گر ان سے اٹھنے والا دھواں زمان و مکان ہے وہ ہے وہ پھیلا ہوا ہے اب تک ہے وہ ہے وہ ہے وہ نشان نقش پا اور ان کے جسموں سے بہنے والی ان آبشاروں کا دکھ ہوں جن ک

Tehzeeb Hafi

158 likes

More from Navneet Vatsal Sahil

اک جادوئی لفظ نا آپ تھا نا جاناں تھا نا تو تھا کبھی نام نہیں لیے ہم نے ایک دوسرے کے پھروں بھی کتنی باتیں ہوتیں تھیں اک لفظ تھا لفظ کیا تھا جان جان اور جان تھا یہ لفظ قاف یوں اک لفظ نہیں تھا ا سے اک لفظ ہے وہ ہے وہ کتنا کچھ تھا ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سب کچھ تھا جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک دوسرے سے چاہیے تھا ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سارے وعدے تھے جو لوگ ملتے سمے کرتے ہیں حقیقت ساری ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھیں جو بچھڑتے سمے کے لیے تھیں یہ لفظ قاف یوں اک لفظ نہیں تھا ا سے اک لفظ ہے وہ ہے وہ کتنا کچھ تھا جانتے ہوں دوست یہ لفظ قاف یوں واقعہ ہی نا تھا ایک خوشبوؤں تھا پورا ہماری محبت کا یہ اک ایسا لفظ تھا ج سے ہے وہ ہے وہ سانسیں تھیں جو اکیلا سارے ٹھنڈے لفظوں کے بیچ گرم تھا زندہ لفظ تھا اک وہی تو گواہ تھا ہم محبت ہے وہ ہے وہ کتنے سچے تھے ایک ایسا لفظ جسے بولتے ہوئے اپنا بدن سرسرا کی قباء لگتی پیڑ ناچتے لگتے اور ہوا بہکتی لگتی یہ لفظ قاف یوں اک لفظ نہیں تھا ا سے اک لفظ ہے

Navneet Vatsal Sahil

4 likes

"तुम भी इक दरिया हो" ज़िन्दगी यूँ भी ख़ूब-सूरत है. किनारे पर बैठे-बैठे दरिया में जाते हुए लोगों को देखते रहना मगर दरिया में न जाना, मौजो को दूर से देखना मगर छूने की कोशिश न करना दिल लाख कहे, "चल हम भी एक बार छूते हैं ना !" मगर मैं जानता हूँ मौज आख़िर को मौज है और दरिया दरिया! तुम भी इक दरिया के जैसी हो मैं किनारे पर ही ठीक हूँ

Navneet Vatsal Sahil

4 likes

हिज्र की रातें हिज्र की रातें रातें नहीं होतीं हिज्र की रातें साँप होती हैं सियाह काले साँप जो शाम ढले बाहर निकलते हैं यादों के बिल से और शुरू कर देते हैं डसना ज़हर जब चढ़ने लगता है जिस्म ठंडा पड़ने लगता है धड़कन कभी इतनी तेज़ कि कमरा गूँजने लग जाए कभी इतनी धीमी कि नब्ज़ टटोलनी पड़ जाए साँसें इतनी बेचैन मानो दिया बुझने को हो और आख़िरी क़तरा बाक़ी हो तेल का दर्द ऐसा दिल में ख़ून के क़तरे आँखों से निकलने लगते हैं पर मौत नहीं आती यका यक आहिस्ता आहिस्ता लाती हैं हर एक ख़्वाहिश और एहसास को मारते हुए अंदरू लाश बनाते हुए हिज्र की रातें साँप होती हैं हिज्र की रातें रातें नहीं होतीं

Navneet Vatsal Sahil

0 likes

چناب ہوئے پروش پریم ہے وہ ہے وہ چناب ہوئے کچھ پروش پروش نہیں رہتے حقیقت ہوں جاتے ہیں ستری حقیقت خود کو بھر لیتے ہیں بھاوکتا اور آنسو سے پریم ہے وہ ہے وہ چناب پروش پرابت کر کر لیتے ستریتو کے اس کا گن کو جس ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوتا ہے میرا سا پاگل پن رادھا سا نہہسوارٹھ پریم حقیقت چنتے ہیں میرا یا رادھا ہوں جانا یا ہوں جانا دونوں ہی دونوں ہوں جانا اتیہدھک دہکھد ہے اسے سہن کرنی ہوتی ہیں تب دونوں ہی پیڑا رادھا جس کے بغیر کرشن نام ادھورا ہے پرنتو پھروں بھی رادھا کے حصے آتا ہے ویوگی جیون اور حقیقت چن لیتی ہے کرشن کی یادوں کے ساتھ جیون نرواہ میرا جس کے بغیر کرشن کوئی بھگوان نہیں اور میرا کو ملتا ہے ترسکرت جیون اور آخری سواںس تک حقیقت چنتی ہے کرشن بھکتی دونوں ہی بےباک پریم کی پریائے ہیں جو بتاتا ہے اتھاہ یا نہہسوارٹھ پریم سدیو ایک طرفہ رہا ہے حقیقت نہیں پرابت کر پاتا رکمنی ہونا رادھا کی مائل میرا نے نہیں سویقار کیا پریمکا بنے رہنا اور اس کا نے کرشن کو سگے کہا رادھا ہوں جانا دہکھد تو ہے میرا ہوں جانا اتین

Navneet Vatsal Sahil

3 likes

دل نہیں توڑوگی جاناں تو گھر بسا لوگی ساتھ کسی کے پر دیکھو ہے وہ ہے وہ تنہا رہ جاؤں گا دیکھو رک جاؤ لگ جاؤ مان بھی جاؤ کہ دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ کچھ کر جاؤں گا جانے کو تو چلی جاوگی پر کہ دیتا ہوں ساتھ تمہارے مری ساری خوشیاں جائیں گی یہ رت یہ بہاریں پھروں مجھ کو نا خوش باش برساتیں بھی گزریںگی ب سے تن پر مری یہ روح بھیگا نا پائیں گی آخر ایک چھوڑوگی روح کا جاناں قتل کر جاوگی مری بن جاناں بھی جان بھلا پھروں کیسے رہ پاؤ گی یاد کروں کہا تھا جاناں نے ساتھ نہیں موڑوگی چاہے کچھ بھی ہوں جائے پر دل نہیں توڑوگی پھروں کیوں ایسی باتیں کرتی ہوں مان بھی جاؤ کہ دو نا جان مری منا نہیں روٹھے جاناں میرا دل نہیں توڑوگی

Navneet Vatsal Sahil

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Navneet Vatsal Sahil.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Navneet Vatsal Sahil's nazm.