اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
Poetry Collection
Aagahi
As opposed to that adage that ignorance is bliss, we may pose a question as to what worth is a human being if he does not know, or is not enlightened. We deserve our exalted human status because we know but knowing is also a philosophical preoccupation. This has been a subject of bigger discourse in our times and poets have philosophized upon it exhaustively. Here are some examples for your perusal.
Total
29
Sher
28
Ghazal
1
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
سوداؔ جو بے خبر ہے وہی یاں کرے ہے عیش مشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہی
اگر شعور نہ ہو تو بہشت ہے دنیا بڑے عذاب میں گزری ہے آگہی کے ساتھ
عمر جو بے خودی میں گزری ہے بس وہی آگہی میں گزری ہے
اک زمانے تک بدن بے خواب بے آداب تھے پھر اچانک اپنی عریانی کا اندازہ ہوا
خدا کا مطلب ہے خود میں آ تو خود آگہی ہے خدا شناسی خدا کو خود سے جدا سمجھ کر بھٹک رہا ہے ادھر ادھر کیوں
پہاڑ جیسی عظمتوں کا داخلہ تھا شہر میں کہ لوگ آگہی کا اشتہار لے کے چل دیے
چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
نہ پوچھئے کہ وہ کس کرب سے گزرتے ہیں جو آگہی کے سبب عیش بندگی سے گئے
یہی آئنہ ہے وہ آئینہ جو لئے ہے جلوۂ آگہی یہ جو شاعری کا شعور ہے یہ پیمبری کی تلاش ہے
آگہی بھولنے دیتی نہیں ہستی کا مآل ٹوٹ کے خواب بکھرتا ہے تو ہنس دیتے ہیں
ڈبوئے دیتا ہے خود آگہی کا بار مجھے میں ڈھلتا نشہ ہوں موج طرب ابھار مجھے
اس کار آگہی کو جنوں کہہ رہے ہیں لوگ محفوظ کر رہے ہیں فضا میں صدائیں ہم
عروج ماہ کو انساں سمجھ گیا لیکن ہنوز عظمت انساں سے آگہی کم ہے
آگہی نے دیئے ابہام کے دھوکے کیا کیا شرح الفاظ جو لکھی تو اشارے لکھے
جنوں کی خیر ہو تجھ کو اثرؔ ملا سب کچھ یہ کیفیت بھی ضروری تھی آگہی کے لیے
آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی ترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے
اگر شعور نہ ہو تو بہشت ہے دنیا بڑے عذاب میں گزری ہے آگہی کے ساتھ
آگہی سے ملی ہے تنہائی آ مری جان مجھ کو دھوکا دے
اک زمانے تک بدن بے خواب بے آداب تھے پھر اچانک اپنی عریانی کا اندازہ ہوا
جن سے زندہ ہو یقین و آگہی کی آبرو عشق کی راہوں میں کچھ ایسے گماں کرتے چلو
پہاڑ جیسی عظمتوں کا داخلہ تھا شہر میں کہ لوگ آگہی کا اشتہار لے کے چل دیے
اجالا علم کا پھیلا تو ہے چاروں طرف یارو بصیرت آدمی کی کچھ مگر کم ہوتی جاتی ہے
نہ پوچھئے کہ وہ کس کرب سے گزرتے ہیں جو آگہی کے سبب عیش بندگی سے گئے
جنوں کے کیف و کم سے آگہی تجھ کو نہیں ناصح گزرتی ہے جو دیوانوں پہ دیوانے سمجھتے ہیں
آگہی بھولنے دیتی نہیں ہستی کا مآل ٹوٹ کے خواب بکھرتا ہے تو ہنس دیتے ہیں
جیسے جیسے آگہی بڑھتی گئی ویسے ظہیرؔ ذہن و دل اک دوسرے سے منفصل ہوتے گئے
اس کار آگہی کو جنوں کہہ رہے ہیں لوگ محفوظ کر رہے ہیں فضا میں صدائیں ہم
کیا ہو سکے حساب کہ جب آگہی کہے اب تک تو رائیگانی میں سارا سفر کیا
آگہی نے دیئے ابہام کے دھوکے کیا کیا شرح الفاظ جو لکھی تو اشارے لکھے
ہم آگہی کو روتے ہیں اور آگہی ہمیں وارفتگئ شوق کہاں لے چلی ہمیں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Aagahi FAQs
Aagahi collection me kya milega?
Aagahi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.