Poetry Collection

Yaad

Lose yourself in the magic of memories with these hand-picked yaad shayari to suit your mood. Yaad shayari is one of the most sought after topics in Urdu shayari as we need the magicians of Urdu language to give voice to our emotions.

Total

100

Sher

50

Ghazal

50

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

GhazalRead Full

wo jo hum mein tum mein qarar tha tumhein yaad ho ki na yaad ho

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگو وہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دم گلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

GhazalRead Full

chupke chupke raat din aansu bahana yaad hai

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاق تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے بار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کا اور ترا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرا اور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے جان کر سوتا تجھے وہ قصد پا بوسی مرا اور ترا ٹھکرا کے سر وہ مسکرانا یاد ہے تجھ کو جب تنہا کبھی پانا تو از راہ لحاظ حال دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے جب سوا میرے تمہارا کوئی دیوانہ نہ تھا سچ کہو کچھ تم کو بھی وہ کارخانا یاد ہے غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے آ گیا گر وصل کی شب بھی کہیں ذکر فراق وہ ترا رو رو کے مجھ کو بھی رلانا یاد ہے دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے آج تک نظروں میں ہے وہ صحبت راز و نیاز اپنا جانا یاد ہے تیرا بلانا یاد ہے میٹھی میٹھی چھیڑ کر باتیں نرالی پیار کی ذکر دشمن کا وہ باتوں میں اڑانا یاد ہے دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سے جب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ مدتیں گزریں پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ہے شوق میں مہندی کے وہ بے دست و پا ہونا ترا اور مرا وہ چھیڑنا وہ گدگدانا یاد ہے باوجود ادعائے اتقا حسرتؔ مجھے آج تک عہد ہوس کا وہ فسانا یاد ہے

GhazalRead Full

dil dhadakne ka sabab yaad aaya

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تری یاد تھی اب یاد آیا آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست تو مصیبت میں عجب یاد آیا دن گزارا تھا بڑی مشکل سے پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا تیرا بھولا ہوا پیمان وفا مر رہیں گے اگر اب یاد آیا پھر کئی لوگ نظر سے گزرے پھر کوئی شہر طرب یاد آیا حال دل ہم بھی سناتے لیکن جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصرؔ ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

GhazalRead Full

kahan aa ke rukne the raste kahan mod tha use bhul ja

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں تری آس تیرے گمان میں صبا کہہ گئی مرے کان میں مرے ساتھ آ اسے بھول جا کسی آنکھ میں نہیں اشک غم ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم تجھے زندگی نے بھلا دیا تو بھی مسکرا اسے بھول جا کہیں چاک جاں کا رفو نہیں کسی آستیں پہ لہو نہیں کہ شہید راہ ملال کا نہیں خوں بہا اسے بھول جا کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں غم زندگی کے فشار میں وہ جو درد تھا ترے بخت میں سو وہ ہو گیا اسے بھول جا تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو وہ تھا ایک دریا وصال کا سو اتر گیا اسے بھول جا

GhazalRead Full

ek hi muzhda subh lati hai

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے رنگ موسم ہے اور باد صبا شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں میز پر گرد جمتی جاتی ہے سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر اب کسے رات بھر جگاتی ہے میں بھی اذن نوا گری چاہوں بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے سو گئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے اس سراپا وفا کی فرقت میں خواہش غیر کیوں ستاتی ہے آپ اپنے سے ہم سخن رہنا ہم نشیں سانس پھول جاتی ہے کیا ستم ہے کہ اب تری صورت غور کرنے پہ یاد آتی ہے کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

GhazalRead Full

aap ki yaad aati rahi raat bhar

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر چشم نم مسکراتی رہی رات بھر رات بھر درد کی شمع جلتی رہی غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر بانسری کی سریلی سہانی صدا یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر یاد کے چاند دل میں اترتے رہے چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا کوئی آواز آتی رہی رات بھر

GhazalRead Full

dukh fasana nahin ki tujhse kahen

دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں آج تک اپنی بیکلی کا سبب خود بھی جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں بے طرح حال دل ہے اور تجھ سے دوستانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں ایک تو حرف آشنا تھا مگر اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں قاصدا ہم فقیر لوگوں کا اک ٹھکانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں اے خدا درد دل ہے بخشش دوست آب و دانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں اب تو اپنا بھی اس گلی میں فرازؔ آنا جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں

GhazalRead Full

hamara dil sawere ka sunahra jam ho jae

ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے ہم کو ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہوگا پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

GhazalRead Full

mil hi jaega kabhi dil ko yaqin rahta hai

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے

GhazalRead Full

kaun aaega yahan koi na aaya hoga

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا دل کی قسمت ہی میں لکھا تھا اندھیرا شاید ورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگا گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا کھیلنے کے لیے بچے نکل آئے ہوں گے چاند اب اس کی گلی میں اتر آیا ہوگا کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا

GhazalRead Full

ab khushi hai na koi dard rulane wala

اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا ہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا ایک بے چہرہ سی امید ہے چہرہ چہرہ جس طرف دیکھیے آنے کو ہے آنے والا اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا دور کے چاند کو ڈھونڈو نہ کسی آنچل میں یہ اجالا نہیں آنگن میں سمانے والا اک مسافر کے سفر جیسی ہے سب کی دنیا کوئی جلدی میں کوئی دیر سے جانے والا

GhazalRead Full

duniya ke sitam yaad na apni hi wafa yaad

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد شاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے اب تک ہے وہ اک نغمۂ بے ساز و صدا یاد جب کوئی حسیں ہوتا ہے سرگرم نوازش اس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یاد کیا جانئے کیا ہو گیا ارباب جنوں کو مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد مدت ہوئی اک حادثۂ عشق کو لیکن اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد ہاں ہاں تجھے کیا کام مری شدت غم سے ہاں ہاں نہیں مجھ کو ترے دامن کی ہوا یاد میں ترک رہ و رسم جنوں کر ہی چکا تھا کیوں آ گئی ایسے میں تری لغزش پا یاد کیا لطف کہ میں اپنا پتہ آپ بتاؤں کیجے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد

GhazalRead Full

dil hijr ke dard se bojhal hai ab aan milo to behtar ho

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں اک پیاس کے دونو پیاسے ہیں ہم کھیتی ہیں تم بادل ہو ہم ندیاں ہیں تم ساگر ہو یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں اک درد کا پھوڑا الہڑ سا نا گپت رہے نا پھوٹ بہے کوئی مرہم ہو کوئی نشتر ہو ہم سانجھ سمے کی چھایا ہیں تم چڑھتی رات کے چندرماں ہم جاتے ہیں تم آتے ہو پھر میل کی صورت کیوں کر ہو اب حسن کا رتبہ عالی ہے اب حسن سے صحرا خالی ہے چل بستی میں بنجارہ بن چل نگری میں سوداگر ہو جس چیز سے تجھ کو نسبت ہے جس چیز کی تجھ کو چاہت ہے وہ سونا ہے وہ ہیرا ہے وہ ماٹی ہو یا کنکر ہو اب انشاؔ جی کو بلانا کیا اب پیار کے دیپ جلانا کیا جب دھوپ اور چھایا ایک سے ہوں جب دن اور رات برابر ہو وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دکھ کا سورج سر پر ہو

GhazalRead Full

nae kapde badal kar jaun kahan aur baal banaun kis ke liye

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے اب شہر میں اس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں ایوان غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا ان خالی کمروں میں ناصرؔ اب شمع جلاؤں کس کے لیے

GhazalRead Full

zabt kar ke hansi ko bhul gaya

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا ذات در ذات ہم سفر رہ کر اجنبی اجنبی کو بھول گیا صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات میں اسے شام ہی کو بھول گیا عہد وابستگی گزار کے میں وجہ وابستگی کو بھول گیا سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر ایک میں ہر کسی کو بھول گیا سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا قہقہہ مارتے ہی دیوانہ ہر غم زندگی کو بھول گیا خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا رنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا کیا قیامت ہوئی اگر اک شخص اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا سوچ کر اس کی خلوت انجمنی واں میں اپنی کمی کو بھول گیا سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن اپنی کم فرصتی کو بھول گیا بستیو اب تو راستہ دے دو اب تو میں اس گلی کو بھول گیا اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا میں بھی گویا اسی کو بھول گیا یعنی تم وہ ہو واقعی؟ حد ہے میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرے بت شکن بت گری کو بھول گیا اب تو ہر بات یاد رہتی ہے غالباً میں کسی کو بھول گیا اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔ اپنی ایذا دہی کو بھول گیا

GhazalRead Full

hai bikharne ko ye mahfil-e-rang-o-bu tum kahan jaoge hum kahan jaenge

ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے ہر متاع نفس نذر آہنگ کی ہم کو یاراں ہوس تھی بہت رنگ کی گل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے اول شب کا مہتاب بھی جا چکا صحن مے خانہ سے اب افق میں کہیں آخر شب ہے خالی ہیں جام و سبو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر سانحہ یہ ہے اب آرزو بھی نہیں وقت کی اس مسافت میں بے آرزو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں یوں کہو عمر برباد کر آئے ہیں تھا سراب اپنا سرمایۂ جستجو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے اک جنوں تھا کہ آباد ہو شہر جاں اور آباد جب شہر جاں ہو گیا ہیں یہ سرگوشیاں در بہ در کو بہ کو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے دشت میں رقص شوق بہار اب کہاں باد پیمائی دیوانہ وار اب کہاں بس گزرنے کو ہے موسم ہاؤ ہو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے ہم ہیں رسوا کن دلی و لکھنؤ اپنی کیا زندگی اپنی کیا آبرو میرؔ دلی سے نکلے گئے لکھنؤ تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے

GhazalRead Full

dil mein ab yun tere bhule hue gham aate hain

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں جیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو سوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں کچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ وہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں اور کچھ دیر نہ گزرے شب فرقت سے کہو دل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں

GhazalRead Full

wo sahilon pe gane wale kya hue

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے میں ان کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر ادھر وہ دوستی نبھانے والے کیا ہوئے وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

GhazalRead Full

ab wo ghar ek virana tha bas virana zinda tha

اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میں ہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی وعدے اور پھر دن گننا آنا تھا جانے والے کو جانے والا زندہ تھا دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا پیلے پتوں کو سہ پہر کی وحشت پرسا دیتی تھی آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس اک کوا زندہ تھا

GhazalRead Full

har dhadkan haijaani thi har khamoshi tufani thi

ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی پھر بھی محبت صرف مسلسل ملنے کی آسانی تھی جس دن اس سے بات ہوئی تھی اس دن بھی بے کیف تھا میں جس دن اس کا خط آیا ہے اس دن بھی ویرانی تھی جب اس نے مجھ سے یہ کہا تھا عشق رفاقت ہی تو نہیں تب میں نے ہر شخص کی صورت مشکل سے پہچانی تھی جس دن وہ ملنے آئی ہے اس دن کی روداد یہ ہے اس کا بلاؤز نارنجی تھا اس کی ساری دھانی تھی الجھن سی ہونے لگتی تھی مجھ کو اکثر اور وہ یوں میرا مزاج عشق تھا شہری اس کی وفا دہقانی تھی اب تو اس کے بارے میں تم جو چاہو وہ کہہ ڈالو وہ انگڑائی میرے کمرے تک تو بڑی روحانی تھی نام پہ ہم قربان تھے اس کے لیکن پھر یہ طور ہوا اس کو دیکھ کے رک جانا بھی سب سے بڑی قربانی تھی مجھ سے بچھڑ کر بھی وہ لڑکی کتنی خوش خوش رہتی ہے اس لڑکی نے مجھ سے بچھڑ کر مر جانے کی ٹھانی تھی عشق کی حالت کچھ بھی نہیں تھی بات بڑھانے کا فن تھا لمحے لا فانی ٹھہرے تھے قطروں کی طغیانی تھی جس کو خود میں نے بھی اپنی روح کا عرفاں سمجھا تھا وہ تو شاید میرے پیاسے ہونٹوں کی شیطانی تھی تھا دربار کلاں بھی اس کا نوبت خانہ اس کا تھا تھی میرے دل کی جو رانی امروہے کی رانی تھی

GhazalRead Full

wo jo hum mein tum mein qarar tha tumhein yaad ho ki na yaad ho

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگو وہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دم گلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

GhazalRead Full

chupke chupke raat din aansu bahana yaad hai

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاق تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے بار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کا اور ترا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرا اور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے جان کر سوتا تجھے وہ قصد پا بوسی مرا اور ترا ٹھکرا کے سر وہ مسکرانا یاد ہے تجھ کو جب تنہا کبھی پانا تو از راہ لحاظ حال دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے جب سوا میرے تمہارا کوئی دیوانہ نہ تھا سچ کہو کچھ تم کو بھی وہ کارخانا یاد ہے غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے آ گیا گر وصل کی شب بھی کہیں ذکر فراق وہ ترا رو رو کے مجھ کو بھی رلانا یاد ہے دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے آج تک نظروں میں ہے وہ صحبت راز و نیاز اپنا جانا یاد ہے تیرا بلانا یاد ہے میٹھی میٹھی چھیڑ کر باتیں نرالی پیار کی ذکر دشمن کا وہ باتوں میں اڑانا یاد ہے دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سے جب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ مدتیں گزریں پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ہے شوق میں مہندی کے وہ بے دست و پا ہونا ترا اور مرا وہ چھیڑنا وہ گدگدانا یاد ہے باوجود ادعائے اتقا حسرتؔ مجھے آج تک عہد ہوس کا وہ فسانا یاد ہے

GhazalRead Full

dil dhadakne ka sabab yaad aaya

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تری یاد تھی اب یاد آیا آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست تو مصیبت میں عجب یاد آیا دن گزارا تھا بڑی مشکل سے پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا تیرا بھولا ہوا پیمان وفا مر رہیں گے اگر اب یاد آیا پھر کئی لوگ نظر سے گزرے پھر کوئی شہر طرب یاد آیا حال دل ہم بھی سناتے لیکن جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصرؔ ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

GhazalRead Full

kahan aa ke rukne the raste kahan mod tha use bhul ja

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں تری آس تیرے گمان میں صبا کہہ گئی مرے کان میں مرے ساتھ آ اسے بھول جا کسی آنکھ میں نہیں اشک غم ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم تجھے زندگی نے بھلا دیا تو بھی مسکرا اسے بھول جا کہیں چاک جاں کا رفو نہیں کسی آستیں پہ لہو نہیں کہ شہید راہ ملال کا نہیں خوں بہا اسے بھول جا کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں غم زندگی کے فشار میں وہ جو درد تھا ترے بخت میں سو وہ ہو گیا اسے بھول جا تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو وہ تھا ایک دریا وصال کا سو اتر گیا اسے بھول جا

GhazalRead Full

nae kapde badal kar jaun kahan aur baal banaun kis ke liye

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے اب شہر میں اس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں ایوان غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا ان خالی کمروں میں ناصرؔ اب شمع جلاؤں کس کے لیے

GhazalRead Full

ek hi muzhda subh lati hai

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے رنگ موسم ہے اور باد صبا شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں میز پر گرد جمتی جاتی ہے سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر اب کسے رات بھر جگاتی ہے میں بھی اذن نوا گری چاہوں بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے سو گئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے اس سراپا وفا کی فرقت میں خواہش غیر کیوں ستاتی ہے آپ اپنے سے ہم سخن رہنا ہم نشیں سانس پھول جاتی ہے کیا ستم ہے کہ اب تری صورت غور کرنے پہ یاد آتی ہے کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

GhazalRead Full

bata ai abr musawat kyun nahin karta

بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتا ہمارے گاؤں میں برسات کیوں نہیں کرتا محاذ عشق سے کب کون بچ کے نکلا ہے تو بچ گیا ہے تو خیرات کیوں نہیں کرتا وہ جس کی چھاؤں میں پچیس سال گزرے ہیں وہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا میں جس کے ساتھ کئی دن گزار آیا ہوں وہ میرے ساتھ بسر رات کیوں نہیں کرتا مجھے تو جان سے بڑھ کر عزیز ہو گیا ہے تو میرے ساتھ کوئی ہاتھ کیوں نہیں کرتا

GhazalRead Full

dukh fasana nahin ki tujhse kahen

دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں آج تک اپنی بیکلی کا سبب خود بھی جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں بے طرح حال دل ہے اور تجھ سے دوستانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں ایک تو حرف آشنا تھا مگر اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں قاصدا ہم فقیر لوگوں کا اک ٹھکانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں اے خدا درد دل ہے بخشش دوست آب و دانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں اب تو اپنا بھی اس گلی میں فرازؔ آنا جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں

GhazalRead Full

wahi phir mujhe yaad aane lage hain

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی وہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں ہوائیں چلیں اور نہ موجیں ہی اٹھیں اب ایسے بھی طوفان آنے لگے ہیں قیامت یقیناً قریب آ گئی ہے خمارؔ اب تو مسجد میں جانے لگے ہیں

GhazalRead Full

sham-e-firaq ab na puchh aai aur aa ke tal gai

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی دل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی بزم خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئی درد کا چاند بجھ گیا ہجر کی رات ڈھل گئی جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی دل سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہم کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی آخر شب کے ہم سفر فیضؔ نہ جانے کیا ہوئے رہ گئی کس جگہ صبا صبح کدھر نکل گئی

GhazalRead Full

zabt kar ke hansi ko bhul gaya

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا ذات در ذات ہم سفر رہ کر اجنبی اجنبی کو بھول گیا صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات میں اسے شام ہی کو بھول گیا عہد وابستگی گزار کے میں وجہ وابستگی کو بھول گیا سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر ایک میں ہر کسی کو بھول گیا سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا قہقہہ مارتے ہی دیوانہ ہر غم زندگی کو بھول گیا خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا رنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا کیا قیامت ہوئی اگر اک شخص اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا سوچ کر اس کی خلوت انجمنی واں میں اپنی کمی کو بھول گیا سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن اپنی کم فرصتی کو بھول گیا بستیو اب تو راستہ دے دو اب تو میں اس گلی کو بھول گیا اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا میں بھی گویا اسی کو بھول گیا یعنی تم وہ ہو واقعی؟ حد ہے میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرے بت شکن بت گری کو بھول گیا اب تو ہر بات یاد رہتی ہے غالباً میں کسی کو بھول گیا اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔ اپنی ایذا دہی کو بھول گیا

GhazalRead Full

kaun aaega yahan koi na aaya hoga

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا دل کی قسمت ہی میں لکھا تھا اندھیرا شاید ورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگا گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا کھیلنے کے لیے بچے نکل آئے ہوں گے چاند اب اس کی گلی میں اتر آیا ہوگا کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا

GhazalRead Full

hum to jaise wahan ke the hi nahin

ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں بے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیں ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر ہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں ان کو آندھی میں ہی بکھرنا تھا بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں اب ہمارا مکان کس کا ہے ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں ہو تری خاک آستاں پہ سلام ہم ترے آستاں کے تھے ہی نہیں ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

GhazalRead Full

dil mein ab yun tere bhule hue gham aate hain

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں جیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو سوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں کچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ وہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں اور کچھ دیر نہ گزرے شب فرقت سے کہو دل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں

GhazalRead Full

phir mujhe dida-e-tar yaad aaya

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا دل جگر تشنۂ فریاد آیا دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز پھر ترا وقت سفر یاد آیا سادگی ہائے تمنا یعنی پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا عذر واماندگی اے حسرت دل نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی کیوں ترا راہ گزر یاد آیا کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی گھر ترا خلد میں گر یاد آیا آہ وہ جرأت فریاد کہاں دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال دل گم گشتہ مگر یاد آیا کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیا عین جنت میں سقر یاد آیا

GhazalRead Full

hamare zakhm-e-tamanna purane ho gae hain

ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں کہ اس گلی میں گئے اب زمانے ہو گئے ہیں تم اپنے چاہنے والوں کی بات مت سنیو تمہارے چاہنے والے دوانے ہو گئے ہیں وہ زلف دھوپ میں فرقت کی آئی ہے جب یاد تو بادل آئے ہیں اور شامیانے ہو گئے ہیں جو اپنے طور سے ہم نے کبھی گزارے تھے وہ صبح و شام تو جیسے فسانے ہو گئے ہیں عجب مہک تھی مرے گل ترے شبستاں کی سو بلبلوں کے وہاں آشیانے ہو گئے ہیں ہمارے بعد جو آئیں انہیں مبارک ہو جہاں تھے کنج وہاں کارخانے ہو گئے ہیں

GhazalRead Full

duniya ke sitam yaad na apni hi wafa yaad

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد شاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے اب تک ہے وہ اک نغمۂ بے ساز و صدا یاد جب کوئی حسیں ہوتا ہے سرگرم نوازش اس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یاد کیا جانئے کیا ہو گیا ارباب جنوں کو مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد مدت ہوئی اک حادثۂ عشق کو لیکن اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد ہاں ہاں تجھے کیا کام مری شدت غم سے ہاں ہاں نہیں مجھ کو ترے دامن کی ہوا یاد میں ترک رہ و رسم جنوں کر ہی چکا تھا کیوں آ گئی ایسے میں تری لغزش پا یاد کیا لطف کہ میں اپنا پتہ آپ بتاؤں کیجے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد

GhazalRead Full

tumko bhula rahi thi ki tum yaad aa gae

تم کو بھلا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے میں زہر کھا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے کل میری ایک پیاری سہیلی کتاب میں اک خط چھپا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے اس وقت رات رانی مرے سونے صحن میں خوشبو لٹا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے ایمان جانئے کہ اسے کفر جانئے میں سر جھکا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے کل شام چھت پہ میر تقی میرؔ کی غزل میں گنگنا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے انجمؔ تمہارا شہر جدھر ہے اسی طرف اک ریل جا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

GhazalRead Full

har dhadkan haijaani thi har khamoshi tufani thi

ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی پھر بھی محبت صرف مسلسل ملنے کی آسانی تھی جس دن اس سے بات ہوئی تھی اس دن بھی بے کیف تھا میں جس دن اس کا خط آیا ہے اس دن بھی ویرانی تھی جب اس نے مجھ سے یہ کہا تھا عشق رفاقت ہی تو نہیں تب میں نے ہر شخص کی صورت مشکل سے پہچانی تھی جس دن وہ ملنے آئی ہے اس دن کی روداد یہ ہے اس کا بلاؤز نارنجی تھا اس کی ساری دھانی تھی الجھن سی ہونے لگتی تھی مجھ کو اکثر اور وہ یوں میرا مزاج عشق تھا شہری اس کی وفا دہقانی تھی اب تو اس کے بارے میں تم جو چاہو وہ کہہ ڈالو وہ انگڑائی میرے کمرے تک تو بڑی روحانی تھی نام پہ ہم قربان تھے اس کے لیکن پھر یہ طور ہوا اس کو دیکھ کے رک جانا بھی سب سے بڑی قربانی تھی مجھ سے بچھڑ کر بھی وہ لڑکی کتنی خوش خوش رہتی ہے اس لڑکی نے مجھ سے بچھڑ کر مر جانے کی ٹھانی تھی عشق کی حالت کچھ بھی نہیں تھی بات بڑھانے کا فن تھا لمحے لا فانی ٹھہرے تھے قطروں کی طغیانی تھی جس کو خود میں نے بھی اپنی روح کا عرفاں سمجھا تھا وہ تو شاید میرے پیاسے ہونٹوں کی شیطانی تھی تھا دربار کلاں بھی اس کا نوبت خانہ اس کا تھا تھی میرے دل کی جو رانی امروہے کی رانی تھی

GhazalRead Full

dil hijr ke dard se bojhal hai ab aan milo to behtar ho

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں اک پیاس کے دونو پیاسے ہیں ہم کھیتی ہیں تم بادل ہو ہم ندیاں ہیں تم ساگر ہو یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں اک درد کا پھوڑا الہڑ سا نا گپت رہے نا پھوٹ بہے کوئی مرہم ہو کوئی نشتر ہو ہم سانجھ سمے کی چھایا ہیں تم چڑھتی رات کے چندرماں ہم جاتے ہیں تم آتے ہو پھر میل کی صورت کیوں کر ہو اب حسن کا رتبہ عالی ہے اب حسن سے صحرا خالی ہے چل بستی میں بنجارہ بن چل نگری میں سوداگر ہو جس چیز سے تجھ کو نسبت ہے جس چیز کی تجھ کو چاہت ہے وہ سونا ہے وہ ہیرا ہے وہ ماٹی ہو یا کنکر ہو اب انشاؔ جی کو بلانا کیا اب پیار کے دیپ جلانا کیا جب دھوپ اور چھایا ایک سے ہوں جب دن اور رات برابر ہو وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دکھ کا سورج سر پر ہو

Explore Similar Collections

Yaad FAQs

Yaad collection me kya milega?

Yaad se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.