پانی کی چوٹ چوٹ ہے کچے گھڑوں سے پوچھ کم عمر ہے وہ ہے وہ بیاہی گئی لڑ کیوں سے پوچھ ک سے ک سے سے تری بارے ہے وہ ہے وہ پوچھا نہیں بتا جا ڈا کیوں سے پوچھ جا کنڈکٹرون سے پوچھ یہ ہجر کیسے کاٹتا ہے آدمی کی عمر ندیوں سے کٹنے والے بڑے پربتوں سے پوچھ کیسے جدا کیا ہے اسے کیسے خوش رہیں برسے بغیر جاتے ہوئے بادلوں سے پوچھ
Related Ghazal
جاناں نے بھی ان سے ہی ملنا ہوتا ہے جن لوگوں سے میرا جھگڑا ہوتا ہے اس کا کا کے گاؤں کی ایک نشانی یہ بھی ہے ہر نلکے کا پانی میٹھا ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا بے وجہ سے تھوڑا آگے چلتا ہوں جس کا ہے وہ ہے وہ نے پیچھا کرنا ہوتا ہے بس ہلکی سی ٹھوکر مارنی پڑتی ہے ہر پتھر کے اندر چشمہ ہوتا ہے جاناں میری دنیا ہے وہ ہے وہ بلکل ایسے ہوں تاش ہے وہ ہے وہ چنو حکم کا اکا ہوتا ہے کتنے سوکھے پیڑ بچا سکتے ہیں ہم ہر جنگل ہے وہ ہے وہ لکڑہارا ہوتا ہے
Zia Mazkoor
30 likes
ہے وہ ہے وہ نے تو ب سے مزاق ہے وہ ہے وہ پوچھا خراب ہے حقیقت پیر ہاتھ دیکھ کے بولا خراب ہے ہر دن اسے دکھایا کہ کتنے غنیم ہیں ہر رات ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا خراب ہے یہ عشق ہوں چکا ہے ترپ چال تاش کی آگے غلام کے میرا اکا خراب ہے آزاد لڑ کیوں سے بھلی قید عورتیں زار کہ جھیل ٹھیک ہے دریا خراب ہے ہم ج سے خدا کی آ سے ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں رات دن حقیقت جا چکا ہے بول کے دنیا خراب ہے زیادہ کسی کی موت پہ رونا نہیں صحیح اور جنم دن پہ شور شرابا خراب ہے آدھا بھی ا سے کے جتنا ہے وہ ہے وہ روشن نہیں ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دیے کو بول رہا تھا خراب ہے
Kushal Dauneria
35 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
اک ذرا سا ٹوٹ کر مسمار ہوں جاتا ہے کیا آئینے کا آئی لگ بیکار ہوں جاتا ہے کیا آج کل مایو سے واپ سے آ رہے ہیں بندھو آج کل ا سے در سے بھی انکار ہوں جاتا ہے کیا ہاتھ پاؤں مارنے سے ہوں نہیں سکتا ا گر ڈوب جانے سے سمندر پار ہوں جاتا ہے کیا عالم تنہائی ہے وہ ہے وہ بھی ا سے کا ایسا خوف ہے ذہن ہے وہ ہے وہ ہوتا ہے کیا اظہار ہوں جاتا ہے کیا ہاں یہ ا سے کا ا سے دودمان معصومیت سے پوچھنا لڑ کیوں کو لڑ کیوں سے پیار ہوں جاتا ہے کیا
Zia Mazkoor
28 likes
More from Rishabh Sharma
سارا سامان لیے گھر سے نکل آئی ہے فون پر فون لگاتی ہوئی تنہائی ہے یاد آنے لگے ہیں لوگ مجھے گزرے ہوئے دوست کیا تو نے مری جھوٹی قسم کھائی ہے اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ مگن رہنا اسے کہتے ہیں اک پلاسٹر جھڑی دیوار پہ جو کائی ہے بات جو دل پہ لگی ہے حقیقت کوئی بات نہیں سر کے اوپر سے گئی بات ہے وہ ہے وہ گہرائی ہے ا سے کے پہلو ہے وہ ہے وہ بھلا سوچتا ہوں کیا کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ہوں نیند نہیں آئی ہے
Rishabh Sharma
18 likes
ادا سے لڑ کیوں سے رابطہ نبھاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک پھول ہوں جو تتلیاں بچاتا ہوں جی ہے وہ ہے وہ ہی عشق ہے وہ ہے وہ ہارے ہوؤں کا مرشد ہوں جی ہے وہ ہے وہ ہی ہر ص گرا ہے وہ ہے وہ قی سے بن کے آتا ہوں ستائی ہوتی ہیں جو آپ کے سمندر کی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسی مچھلیوں کے ساتھ گوٹے تقاضا ہوں کسی کے واسطے کانٹے نہیں بچھاتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر یوں بھی نہیں کے کانٹوں کو ہٹاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ موسمی ہنسی کا مارا ہوں کہ کوئی دن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سال بھر ہے وہ ہے وہ کوئی دن ہی مسکراتا ہوں بدن بھی آتے ہیں اور ہچکیاں بھی آتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جن کو بھول گیا تو ان کو یاد آتا ہوں نبھانے جیسا تو کچھ بھی نہیں ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر حقیقت مر لگ جائے کہی ا سے لیے نبھاتا ہوں
Rishabh Sharma
19 likes
کیا دوست محبت کا نیم کچھ نہیں ہوتا کھا لیتے ہیں سب جھوٹی قسم کچھ نہیں ہوتا وہ پردہ خود کشی پوچھتی رہتی ہے مجھے روز کیا واقعی میں اگلا جنم کچھ نہیں ہوتا پروت کے مہانے پہ کھڑا سوچ رہا ہوں کس نے کہا تھا ایک قدم کچھ نہیں ہوتا اور واقعہ مشہور تھا جس پیڑ کو لے کر اس پیڑ پہ لکھا تھا بھرم کچھ نہیں ہوتا وہ روشنی کے دن تھے رشبھ شرما تیرے ساتھ جب تو ہمیں سمجھاتا تھا غم کچھ نہیں ہوتا
Rishabh Sharma
18 likes
ڈولی اٹھا کے لے گئے محلوں کے بادشاہ سڑکوں سے دیکھتے رہے سڑکوں کے بادشاہ امید کی کرن ہے وہ ہے وہ ہر اک کھیت جل گئے سلفا سے کھا کے مر گئے کھیتوں کے بادشاہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوسری غزل کی طرف چل دیا تو دوست پچھلی بلاتی رہ گئی غزلوں کے بادشاہ آنکھوں کی تخت پوشی تو بینائی لے گئی آنسو بنیں گے دیکھ یوں پلکوں کے بادشاہ
Rishabh Sharma
15 likes
جو کہ ہوتے ہوئے آزار بے حد ہوتا ہے بعد ہونے کے مزیدار بے حد ہوتا ہے دن بدلنے کے لیے خود کشی کرنے کے لیے ایک ہی بے وجہ کا انکار بے حد ہوتا ہے بھاگنے والے کو دنیا بھی بے حد چھوٹی ہے گھومنے والے کو بازار بے حد ہوتا ہے ج سے نے بھیجا ہے تمہیں جا کے اسے کہنا جاناں لاکھ پیادوں ہے وہ ہے وہ بھی سالار بے حد ہوتا ہے جنگ ہر چیز کو ہتھیار بنا دیتی ہے بچے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پرکار بے حد ہوتا ہے چھت سے چھت والوں ہے وہ ہے وہ دیوار کھڑی کرنے کو ان کے بچوں ہے وہ ہے وہ ہوا پیار بے حد ہوتا ہے
Rishabh Sharma
18 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rishabh Sharma.
Similar Moods
More moods that pair well with Rishabh Sharma's ghazal.







