ghazalKuch Alfaaz

tumhen jab kabhi milen fursaten mire dil se bojh utaar do main bahut dinon se udaas huun mujhe koi shaam udhar do mujhe apne ruup ki dhuup do ki chamak saken mire khal-o-khad mujhe apne rang men rang do mire saare rang utaar do kisi aur ko mire haal se na ghharaz hai koi na vasta main bikhar gaya huun samet lo main bigad gaya huun sanvar do tumhein jab kabhi milen fursaten mere dil se bojh utar do main bahut dinon se udas hun mujhe koi sham udhaar do mujhe apne rup ki dhup do ki chamak saken mere khal-o-khad mujhe apne rang mein rang do mere sare rang utar do kisi aur ko mere haal se na gharaz hai koi na wasta main bikhar gaya hun samet lo main bigad gaya hun sanwar do

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو

Fazil Jamili

73 likes

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun

61 likes

More from Aitbar Sajid

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ فیصلہ یہ تو بہر حال تجھے کرنا ہے ذہن کے ساتھ سلگنا ہے کہ جذبات کے ساتھ گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ اب کے یہ سوچ کے جاناں زخم جدائی دینا دل بھی بجھ جائےگا ڈھلتی ہوئی ای سے رات کے ساتھ جاناں وہی ہوں کہ جو پہلے تھے مری نظروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اضافہ ہوا ان اطلَس و بانات کے ساتھ اتنا پسپا نہ ہوں دیوار سے لگ جائےگا اتنے سمجھوتے نہ کر صورت حالات کے ساتھ بھیجتا رہتا ہے گم نام خطوں ہے وہ ہے وہ کچھ پھول ای سے دودمان کہ سے کو محبت ہے مری ذات کے ساتھ

Aitbar Sajid

0 likes

میرا ہے کون دشمن مری چاہت کون رکھتا ہے اسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہے مکینوں کے مقدم ہی سے یاد آتی ہے ہر بستی وگر لگ صرف بام و در سے الفت کون رکھتا ہے نہیں ہے نرخ کوئی مری ان اشعار تازہ کا یہ مری خواب ہیں خوابوں کی قیمت کون رکھتا ہے در خیمہ کھلا رکھا ہے گل کر کے دیا ہم نے سو اجازت عام ہے لو شوق رخصت کون رکھتا ہے مرے دشمن کا قد ا سے بھیڑ ہے وہ ہے وہ مجھ سے تو اونچا ہوں یہی ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہوں ایسی قامت کون رکھتا ہے ہمارے شہر کی رونق ہے کچھ مشہور لوگوں سے م گر سب جانتے ہیں کیسی شہرت کون رکھتا ہے

Aitbar Sajid

0 likes

گھر کی دہلیز سے بازار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا جاناں کسی چشم خریدار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا خاک اڑانا انہی گلیوں ہے وہ ہے وہ بھلا لگتا ہے چلتے پھرتے کسی دربار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا یوںہی خوشبو کی طرح پھیلتے رہنا ہر سو جاناں کسی دام طلبگار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا دور ساحل پہ کھڑے رہ کے تماشا کرنا کسی امید کے منجھدار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا اچھے لگتے ہوں کہ خود سر نہیں دودمان ہوں جاناں ہاں سمٹ کے بت پندار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا چاند کہتا ہوں تو زار لگ غلط لینا جاناں رات کو روزن دیوار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا

Aitbar Sajid

1 likes

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مری دل سے بوجھ اتار دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد دنوں سے ادا سے ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مری خال و خد مجھے اپنے رنگ ہے وہ ہے وہ رنگ دو مری سارے رنگ اتار دو کسی اور کو مری حال سے لگ غرض ہے کوئی لگ واسطہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بکھر گیا تو ہوں سمیٹ لو ہے وہ ہے وہ بگڑ گیا تو ہوں سنوارت دو

Aitbar Sajid

1 likes

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جو محبتوں کی احساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مجھے گل آرزو کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے مری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گلاب سارے ہیں کاغذی شریک راہ سفر کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں کر سکا نہ قبول ہے وہ ہے وہ حقیقت خواب زار ہوئے جو مری طلب مری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مری دھڑکنوں کے قریب تھے مری چاہ تھے میرا خواب تھے حقیقت جو روز و شب مری پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

Aitbar Sajid

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aitbar Sajid.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aitbar Sajid's ghazal.