ghazalKuch Alfaaz

حقیقت ہنس کے دیکھتی ہوتی تو اس کا سے بات کرتے کوئی امید بھی ہوتی تو اس کا سے بات کرتے ہم اسٹیشن سے باہر آئی اس کا افسوس کے ساتھ حقیقت لڑکی اجنبی ہوتی تو اس کا سے بات کرتے ہمارے جام آدھی حوصلہ افزائی کر پائے اگر اس کا نے بھی پی ہوتی تو اس کا سے بات کرتے ہم اس کا کے جھمکوں کی لرزش پہ 9 سوچتے ہیں ہوا سے دوستی ہوتی تو اس کا سے بات کرتے یہ خاموشی بھی کیا ہے گفتگو کی انتہا ہے کوئی بات انکہی ہوتی تو اس کا سے بات کرتے برق سے بہت شرماتی ہے آواز اپنی اگر حقیقت سو رہی ہوتی تو اس کا سے بات کرتے کسی سے بات کرنا اتنا مشکل بھی نہیں تھا کسی نے بات کی ہوتی تو اس کا سے بات کرتے

Related Ghazal

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

حقیقت ایک پکشی جو گونجن کر رہا ہے حقیقت مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پریم سرجن کر رہا ہے بے حد دن ہوں گئے ہے جاناں سے بچھڑے تمہیں ملنے کو اب من کر رہا ہے ن گرا کے شانت تٹ پر بیٹھ کر من تیری یادیں وسرجن کر رہا ہے

Azhar Iqbal

61 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا

Zubair Ali Tabish

66 likes

More from Charagh Sharma

अब ये गुल गुलनार कब है ख़ार है बे-कार है आप ने जब कह दिया बे-कार है बे-कार है छोड़ कर मतला ग़ज़ल दमदार है बे-कार है जब सिपह-सालार ही बीमार है बे-कार है इक सवाल ऐसा है मेरे पास जिस के सामने ये जो तेरी शिद्दत-ए-इन्कार है बे-कार है तुझ को भी है चाँद का दीदार करने की तलब इक दिए को रौशनी दरकार है बे-कार है मय-कदे के मुख़्तलिफ़ आदाब होते हैं 'चराग़' जो यहाँ पर साहब-ए-किरदार है बे-कार है

Charagh Sharma

2 likes

پکارتا ہوں ہے وہ ہے وہ الامان الامان اللہ بچا لے مری یقین اللہ کی جان اللہ حقیقت جن کو تو نے عطا کیا ہے جہان اللہ بنا رہے ہیں تری لیے ہی مکان اللہ حقیقت یاد آتا ہے صرف یاروں کے پوچھنے پر تو یاد آتا ہے صرف سمے اذان اللہ تری ت غافل کی ہی بدولت ہوں آج جو ہوں مجھے کوئی جنم ذات کافر لگ جان اللہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب حقیقت جنت بھی چھوڑ آیا تو دنیا کیا ہے لے ہے وہ ہے وہ چلا تو سنبھال اپنا جہان اللہ

Charagh Sharma

6 likes

اب بھی یہ مصروف دنیا سست ہے رفتار ہے وہ ہے وہ ہے وہ کل کی خبریں پڑھ رہی ہے آج کے ذائقہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک گھر کی چار دیواری ہے وہ ہے وہ گم ہیں دو مکان روز اینٹیں اگ رہی ہیں پانچوی دیوار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے حسین چہرے پہ قابض زلف سے لڑنا ہے تو آئینے سے دھار کریے دھوپ کی تلوار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان کے اندر موت کا ڈر ڈال یہ معصوم لوگ سنتے آئی ہیں کہ سب غزل ہے جنگ اور پیار ہے وہ ہے وہ

Charagh Sharma

4 likes

مری اداسی مری درمیان بند کروں کوئی سلیقے سے یہ عطر دان بند کروں پڑھا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ بچوں کو کربلا کا نہساب جاناں اپنی تش لگ لبی کا بخان بند کروں ذرا سمجھنے کی کوشش کروں مری اشکوں حقیقت آج خوش ہے جاناں اپنی زبان بند کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک شرط پہ رازی ہوں قید ہونے کو اسی قف سے ہے وہ ہے وہ میرا آسمان بند کروں مجھے اکیلے ہے وہ ہے وہ کرنی ہیں خود سے کچھ باتیں یہ میرا حکم ہے دیواروں کان بند کروں غزل ہے وہ ہے وہ لانے سے غم اور بڑھ گیا تو ہے چراغ شٹر گراو سخن کی دکان بند کروں

Charagh Sharma

4 likes

حقیقت صرف قصے کہانیوں کے معملے تھے چراغ رکھ دے چراغ گھسنے سے کوئی جن ون نہیں نکلتے چراغ رکھ دے ہماری معصومیت تو دیکھو رکھ آئی دل ہم حضور جاناں کہ چنو کوئی خدا کا بندہ ہوا کے آگے چراغ رکھ دے کسی کے سائے کو قید کرنے کا اک طریقہ بتا رہا ہوں اک ا سے کے آگے چراغ رکھ دے اک ا سے کے پیچھے چراغ رکھ دے تجھے بے حد شوق تھا محبت کی گرم لپٹوں سے کھیلنے کا لے جل گئی لگ ہتھیلی اب خوش کہا تھا ہے وہ ہے وہ نے چراغ رکھ دے چراغ لے کے بھی ڈھونڈنے سے چراغ جیسا نہیں ملےگا سو رکھنی ہے تو چراغ سے رکھ نہیں تو پیاری چراغ رکھ دے چراغ روشن ضرور کر تو پر ا سے سے پہلے خدا کی خاطر ی ہاں پہ پھیلا ہے جو اندھیرا سمیٹ زیر چراغ رکھ دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کی باتوں ہے وہ ہے وہ آ گیا تو اور اٹھا کے لے آیا ا سے کی پائل دماغ دیتا رہا صدائیں چراغ رکھ دے چراغ رکھ دے

Charagh Sharma

13 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Charagh Sharma.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Charagh Sharma's ghazal.