ghazalKuch Alfaaz

ہر منظر پر جشن منانے ناچنے گانے والے لوگ اک مدت سے چپ بیٹھے ہیں شور مچانے والے لوگ ہم دونوں کو سمجھائیں گے ڈانٹیں گے فٹکاریں گے ہم دونوں کو کب بھلاکر یہ سمجھانے والے لوگ عشق قی سے فرہاد رومیو چنو ہی کر سکتے ہیں ہم تو ٹھہرے د سے سے چھہ تک آف سے جانے والے لوگ کچھ چیزوں کا ا سے دنیا ہے وہ ہے وہ کوئی نیمول بدل نہیں ہے کیسے چاند سے کام چلائیں تجھ کو دیکھنے والے لوگ

Vashu Pandey11 Likes

Related Ghazal

दश्त में प्यास बुझाते हुए मर जाते हैं हम परिंदे कहीं जाते हुए मर जाते हैं हम हैं सूखे हुए तालाब पे बैठे हुए हंस जो तअल्लुक़ को निभाते हुए मर जाते हैं घर पहुँचता है कोई और हमारे जैसा हम तेरे शहर से जाते हुए मर जाते हैं किस तरह लोग चले जाते हैं उठ कर चुप -चाप हम तो ये ध्यान में लेट हुए मर जाते हैं उन के भी क़त्ल का इल्ज़ाम हमारे सर है जो हमें ज़हर पिलाते हुए मर जाते हैं ये मोहब्बत की कहानी नहीं मरती लेकिन लोग किरदार निभाते हुए मर जाते हैं हम हैं वो टूटी हुई कश्तियों वाले 'ताबिश ' जो किनारों को मिलाते हुए मर जाते हैं

Abbas Tabish

21 likes

پتا کے ماتھے آیا بس شکن کا دکھ کسی مفلس سے پوچھو پیرہن کا دکھ سبھی نے رام کا ہی کشت دیکھا بس تھا دشرتھ کی بھی آنکھوں ہے وہ ہے وہ وچن کا دکھ فقط دلبر کے جسموں تک ہی محدود ہے نہ جانے کیوں سخن ور کے سخن کا دکھ محبت ہے وہ ہے وہ کلائی کاٹنے والے سمجھتے ہی نہیں 9 بہن کا دکھ بنا مرضی کسی سے بیاہ دی جائے وہی لڑکی بتائےگی چھون کا دکھ گلے بھی لگ نہ پائے وصل ہے وہ ہے وہ اس کا کے بھلا اب اور کیا ہوگا بدن کا دکھ یہاں ہر بے وجہ خوں کا پیاسا لگتا ہے یقیناً مذہبی غن ہے وطن کا دکھ مجھے فٹ پاتھ کا منظر بتاتا ہے کہ مزدوروں نے چکھا ہے تھکن کا دکھ

Harsh saxena

16 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہوں چنو تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہوں چنو اپنے ہی سائے سے ہر گام لرز جاتا ہوں راستے ہے وہ ہے وہ کوئی دیوار کھڑی ہوں چنو کتنے نادان ہیں تری بھولنے والے کہ تجھے یاد کرنے کے لیے عمر پڑی ہوں چنو تری ماتھے کی شکن پہلے بھی دیکھی تھی م گر یہ گرہ اب کے مری دل ہے وہ ہے وہ پڑی ہوں چنو منزلیں دور بھی ہیں منزلیں نزدیک بھی ہیں اپنے ہی پاؤں ہے وہ ہے وہ زنجیر پڑی ہوں چنو آج دل کھول کے روئے ہیں تو یوں خوش ہیں فراز چند لمحوں کی یہ راحت بھی بڑی ہوں چنو

Ahmad Faraz

17 likes

دائیں بازو ہے وہ ہے وہ گڑا تیر نہیں کھینچ سکا ای سے لیے کھول سے شمشیر نہیں کھینچ سکا شور اتنا تھا کہ آواز بھی ڈبے ہے وہ ہے وہ رہی بھیڑ اتنی تھی کہ زنجیر نہیں کھینچ سکا ہر نظر سے نظر انداز شدہ منظر ہوں حقیقت مداری ہوں جو رہگیر نہیں کھینچ سکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے محنت سے ہتھیلی پہ لکیرے کھینچیں حقیقت جنہیں کاتب تقدیر نہیں کھینچ سکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تصویر کشی کر کے جواں کی اولاد ان کے بچپن کی تصاویر نہیں کھینچ سکا مجھ پہ اک ہجر مسلط ہے ہمیشہ کے لیے ایسا جن ہے کہ کوئی پیر نہیں کھینچ سکا جاناں پہ کیا خاک اثر ہوگا مری شعروں کا جاناں کو تو میر تقی میر نہیں کھینچ سکا

Umair Najmi

14 likes

More from Vashu Pandey

یوں بھی کٹنے لگا ہوں اب ہے وہ ہے وہ غیر مناسب یاروں سے بارش وفا نہیں کر سکتی مٹی کی دیواروں سے دکھے ہوئے لوگوں کی پھوڑی رگ کو چھونا ٹھیک نہیں سمے نہیں پوچھا کرتے ہیں یاروں سمے کے ماروں سے عاشق ہیں تو عاشق والے جلوے بھی دکھلائیں آپ کپڑے پھاڑیں خاک اڑائیں سر ماریں دیواروں سے اور چمن گر اپنا ہے تو ا سے سب کچھ اپنا ہے بے شک پھول پہ پھول لوٹائیں بچھاؤ لگ کھائیں خارو سے

Vashu Pandey

5 likes

उम्र भर यूँँ ही जलते रहे रौशनी भी नहीं कर सके गाँव करना था रौशन हमें इक गली भी नहीं कर सके हम को इतना डराया गया मेरे मौला तेरे नाम से तेरे बंदे कभी ठीक से बंदगी भी नहीं कर सके बेख़ुदी में उठे थे क़दम आ फँसे ऐसे रस्ते पे हम मंज़िलें भी नहीं मिल सकी वापसी भी नहीं कर सके छोटे घर के बड़े थे सो हम ज़िम्मेदारी निभाते रहे आशिक़ी तो बड़ी बात थी ख़ुद-कुशी भी नहीं कर सके काम दो ही थे करने हमें आशिक़ी या तो फिर शा'इरी आशिक़ी भी नहीं कर सके शा'इरी भी नहीं कर सके

Vashu Pandey

6 likes

یہ تقریباً غیر ممکن ہے خدایا پر نکل جائے چراغوں کے دماغوں سے ہوا کا ڈر نکل جائے اسی ڈر سے سفر بھر ہے وہ ہے وہ کہی آنکھیں نہیں جھپکی کہی ایسا لگ ہوں غلطی سے تیرا گھر نکل جائے طریقہ ایک ہی ہے ب سے سکون پانے کا دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں سے دل نکل جائے ی ہاں سے سر نکل جائے

Vashu Pandey

11 likes

حالات ا سے دودمان لگ تھے دشوار ٹھیک تھے چارگری سے قبل یہ بیمار ٹھیک تھے بیکار ہوں گئے ہوئے ہیں جب سے کار گر ا سے سے تو مری جان ہم بیکار ٹھیک تھے ا سے پار لگ رہا تھا کہ ا سے پار موج ہے ا سے پار سوچتے ہیں کہ ا سے پار ٹھیک تھے تھے یوں بھی اپنے چاہنے والے بے حد کہ ہم انسان تو چنو بھی تھے فنکار ٹھیک تھے

Vashu Pandey

5 likes

حقیقت در بنے یا راہ کی دیوار خوش رہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بس یہ چاہتا ہوں میرا یار خوش رہے ایسا کوئی نہیں کہ جسے کوئی غم نہیں ایسا کوئی نہیں جو لگاتار خوش رہے مہمان رہ گیا تو ہے یہ بس چند روز کا کوشش یہ جون ایلیا کہ بیمار خوش رہے

Vashu Pandey

9 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vashu Pandey.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vashu Pandey's ghazal.