Poetry Collection

children's Story

children's Story par curated selection jahan sher, ghazal aur nazm ko readable format me discover kiya ja sakta hai.

Total

1

Sher

0

Ghazal

1

Nazm

0

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

GhazalRead Full

بردباری

ایک نیک بادشاہ رات کو بھیس بدل کر پھرا کرتا تھا کہ لوگوں کا اصلی حال دیکھ کر جہاں تک ہو سکے، ان کی تکلیفیں دور کر دیا کرے۔ جاڑے کے موسم میں وہ ایک رات شہر کے باہر کسی ویران مکان کے پاس سے جا رہا تھا ہ دو آدمیوں کے بولنے کی آواز آئی۔ کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کہہ رہا تھا ’’لوگ بادشاہ کو خدا ترس تو کہتےہیں، مگر یہ کہاں کی خدا ترسی ہے کہ وہ اپنے محلوں میں نرم اور گرم بستروں پر سوئے اور مسافر جنگل کی ان برفانی ہواؤں میں مریں۔ خدا کی قسم، اگر قیامت کے دن وہ بہشت میں بھیجا گیا تو میں کبھی نہ جانے دوں گا۔‘‘ دوسرے نے کہا۔ ’’حکومت میں خدا ترسی کہاں؟ یہ خوشامدیوں کی باتیں ہیں۔‘‘ یہ سن کر نیک بادشاہ واپس چلا آیا او رمحل میں پہنچ کر حکم دیا کہ ’’دو غریب مسافر جو شہر کے باہر فلاں جگہ پڑے ہوئے ہیں، انہیں اسی وقت لے آؤ اور کھانا کھلا کر آرام سے سلا دو۔‘‘ چنانچہ فوراً حکم کی تعمیل ہوگئی۔ صبح جب دن چڑھا تو بادشاہ نے بلا کر مسافروں سے کہا۔ بھائیو! شہر کے باہر تمہیں تکلیف تو ضرور ہوئی، مگر یہ تمہارا اپنا قصور تھا کہ نو بجے رات تک بھی شہر میں نہ آئے اور دروازہ بند ہو گیا۔ پھر بھی میں نے آج شہر کے باہر ایک سرائے بنانے کا حکم دے کر تم سے صلح کر لی ہے۔ امید ہے کہ تم بھی اب قیامت کے دن مجھ سے دشمنی نہ رکھو گے۔ مسافروں نے شرمندگی سے سر نیچا کر لیا اور بادشاہ کی نیکی کے گیت گاتے ہوئے گھروں کو چلے گئے۔

GhazalRead Full

بردباری

ایک نیک بادشاہ رات کو بھیس بدل کر پھرا کرتا تھا کہ لوگوں کا اصلی حال دیکھ کر جہاں تک ہو سکے، ان کی تکلیفیں دور کر دیا کرے۔ جاڑے کے موسم میں وہ ایک رات شہر کے باہر کسی ویران مکان کے پاس سے جا رہا تھا ہ دو آدمیوں کے بولنے کی آواز آئی۔ کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کہہ رہا تھا ’’لوگ بادشاہ کو خدا ترس تو کہتےہیں، مگر یہ کہاں کی خدا ترسی ہے کہ وہ اپنے محلوں میں نرم اور گرم بستروں پر سوئے اور مسافر جنگل کی ان برفانی ہواؤں میں مریں۔ خدا کی قسم، اگر قیامت کے دن وہ بہشت میں بھیجا گیا تو میں کبھی نہ جانے دوں گا۔‘‘ دوسرے نے کہا۔ ’’حکومت میں خدا ترسی کہاں؟ یہ خوشامدیوں کی باتیں ہیں۔‘‘ یہ سن کر نیک بادشاہ واپس چلا آیا او رمحل میں پہنچ کر حکم دیا کہ ’’دو غریب مسافر جو شہر کے باہر فلاں جگہ پڑے ہوئے ہیں، انہیں اسی وقت لے آؤ اور کھانا کھلا کر آرام سے سلا دو۔‘‘ چنانچہ فوراً حکم کی تعمیل ہوگئی۔ صبح جب دن چڑھا تو بادشاہ نے بلا کر مسافروں سے کہا۔ بھائیو! شہر کے باہر تمہیں تکلیف تو ضرور ہوئی، مگر یہ تمہارا اپنا قصور تھا کہ نو بجے رات تک بھی شہر میں نہ آئے اور دروازہ بند ہو گیا۔ پھر بھی میں نے آج شہر کے باہر ایک سرائے بنانے کا حکم دے کر تم سے صلح کر لی ہے۔ امید ہے کہ تم بھی اب قیامت کے دن مجھ سے دشمنی نہ رکھو گے۔ مسافروں نے شرمندگی سے سر نیچا کر لیا اور بادشاہ کی نیکی کے گیت گاتے ہوئے گھروں کو چلے گئے۔

You have reached the end.

Explore Similar Collections

children's Story FAQs

children's Story collection me kya milega?

children's Story se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.