Poetry Collection

Husn

Beauty is a thing to see, observe, and enjoy. It is, however, too difficult to configure it in words. Poetry is an art of representing beauty which poets do with their well-chosen words and literary tools and figures of speech. Some examples that represent beauty can be seen here in this section.

Total

100

Sher

50

Ghazal

50

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

GhazalRead Full

niyyat-e-shauq bhar na jae kahin

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد آج کا دن گزر نہ جائے کہیں نہ ملا کر اداس لوگوں سے حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں آرزو ہے کہ تو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصرؔ پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

GhazalRead Full

hasti apni habab ki si hai

ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے چشم دل کھول اس بھی عالم پر یاں کی اوقات خواب کی سی ہے بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں حالت اب اضطراب کی سی ہے نقطۂ خال سے ترا ابرو بیت اک انتخاب کی سی ہے میں جو بولا کہا کہ یہ آواز اسی خانہ خراب کی سی ہے آتش غم میں دل بھنا شاید دیر سے بو کباب کی سی ہے دیکھیے ابر کی طرح اب کے میری چشم پر آب کی سی ہے میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے

GhazalRead Full

ek lafz-e-mohabbat ka adna ye fasana hai

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہے یہ کس کا تصور ہے یہ کس کا فسانا ہے جو اشک ہے آنکھوں میں تسبیح کا دانا ہے دل سنگ ملامت کا ہر چند نشانا ہے دل پھر بھی مرا دل ہے دل ہی تو زمانا ہے ہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانا ہے رونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانا ہے وہ اور وفا دشمن مانیں گے نہ مانا ہے سب دل کی شرارت ہے آنکھوں کا بہانا ہے شاعر ہوں میں شاعر ہوں میرا ہی زمانا ہے فطرت مرا آئینا قدرت مرا شانا ہے جو ان پہ گزرتی ہے کس نے اسے جانا ہے اپنی ہی مصیبت ہے اپنا ہی فسانا ہے کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے آغاز محبت ہے آنا ہے نہ جانا ہے اشکوں کی حکومت ہے آہوں کا زمانا ہے آنکھوں میں نمی سی ہے چپ چپ سے وہ بیٹھے ہیں نازک سی نگاہوں میں نازک سا فسانا ہے ہم درد بہ دل نالاں وہ دست بہ دل حیراں اے عشق تو کیا ظالم تیرا ہی زمانا ہے یا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا ان سے کل ان کا زمانہ تھا آج اپنا زمانا ہے اے عشق جنوں پیشہ ہاں عشق جنوں پیشہ آج ایک ستم گر کو ہنس ہنس کے رلانا ہے تھوڑی سی اجازت بھی اے بزم گہ ہستی آ نکلے ہیں دم بھر کو رونا ہے رلانا ہے یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے خود حسن و شباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپنا جب دیکھیے اب وہ ہیں آئینہ ہے شانا ہے تصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غم جاناں اک نقش چھپانا ہے اک نقش دکھانا ہے یہ حسن و جمال ان کا یہ عشق و شباب اپنا جینے کی تمنا ہے مرنے کا زمانا ہے مجھ کو اسی دھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنا اب آئے وہ اب آئے لازم انہیں آنا ہے خودداری و محرومی محرومی و خودداری اب دل کو خدا رکھے اب دل کا زمانا ہے اشکوں کے تبسم میں آہوں کے ترنم میں معصوم محبت کا معصوم فسانا ہے آنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگرؔ لیکن بندھ جائے سو موتی ہے رہ جائے سو دانا ہے

GhazalRead Full

jis samt bhi dekhun nazar aata hai ki tum ho

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو ہر بزم میں موضوع سخن دل زدگاں کا اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم ہو اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں اک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو وہ وقت نہ آئے کہ دل زار بھی سوچے اس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل یہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو اے جان فرازؔ اتنی بھی توفیق کسے تھی ہم کو غم ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو

GhazalRead Full

bhadkaen meri pyas ko aksar teri aankhen

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلی کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن کھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تری آنکھیں اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

GhazalRead Full

bechain bahut phirna ghabrae hue rahna

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کی اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

GhazalRead Full

wo chandni ka badan khushbuon ka saya hai

وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایا ہے بہت عزیز ہمیں ہے مگر پرایا ہے اتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے کہاں سے آئی یہ خوشبو یہ گھر کی خوشبو ہے اس اجنبی کے اندھیرے میں کون آیا ہے مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں اسے زمانے نے شاید بہت ستایا ہے تمام عمر مرا دل اسی دھوئیں میں گھٹا وہ اک چراغ تھا میں نے اسے بجھایا ہے

GhazalRead Full

in aankhon ki masti ke mastane hazaron hain

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں اک تم ہی نہیں تنہا الفت میں مری رسوا اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں اک صرف ہمیں مے کو آنکھوں سے پلاتے ہیں کہنے کو تو دنیا میں مے خانے ہزاروں ہیں اس شمع فروزاں کو آندھی سے ڈراتے ہو اس شمع فروزاں کے پروانے ہزاروں ہیں

GhazalRead Full

husn ko chand jawani ko kanwal kahte hain

حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں وہ ترے حسن کی قیمت سے نہیں ہیں واقف پنکھڑی کو جو ترے لب کا بدل کہتے ہیں پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ہیں

GhazalRead Full

aap jin ke qarib hote hain

آپ جن کے قریب ہوتے ہیں وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جب طبیعت کسی پر آتی ہے موت کے دن قریب ہوتے ہیں مجھ سے ملنا پھر آپ کا ملنا آپ کس کو نصیب ہوتے ہیں ظلم سہہ کر جو اف نہیں کرتے ان کے دل بھی عجیب ہوتے ہیں عشق میں اور کچھ نہیں ملتا سیکڑوں غم نصیب ہوتے ہیں نوحؔ کی قدر کوئی کیا جانے کہیں ایسے ادیب ہوتے ہیں

GhazalRead Full

yun saja chand ki jhalka tere andaz ka rang

یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ سایۂ چشم میں حیراں رخ روشن کا جمال سرخیٔ لب میں پریشاں تری آواز کا رنگ بے پیے ہوں کہ اگر لطف کرو آخر شب شیشۂ مے میں ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ چنگ و نے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے دل نے لے بدلی تو مدھم ہوا ہر ساز کا رنگ اک سخن اور کہ پھر رنگ تکلم تیرا حرف سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ

GhazalRead Full

wo ki har ahd-e-mohabbat se mukarta jae

وہ کہ ہر عہد محبت سے مکرتا جائے دل وہ ظالم کہ اسی شخص پہ مرتا جائے میرے پہلو میں وہ آیا بھی تو خوشبو کی طرح میں اسے جتنا سمیٹوں وہ بکھرتا جائے کھلتے جائیں جو ترے بند قبا زلف کے ساتھ رنگ پیراہن شب اور نکھرتا جائے عشق کی نرم نگاہی سے حنا ہوں رخسار حسن وہ حسن جو دیکھے سے نکھرتا جائے کیوں نہ ہم اس کو دل و جان سے چاہیں تشنہؔ وہ جو اک دشمن جاں پیار بھی کرتا جائے

GhazalRead Full

kisi ki yaad mein duniya ko hain bhulae hue

کسی کی یاد میں دنیا کو ہیں بھلائے ہوئے زمانہ گزرا ہے اپنا خیال آئے ہوئے بڑی عجیب خوشی ہے غم محبت بھی ہنسی لبوں پہ مگر دل پہ چوٹ کھائے ہوئے ہزار پردے ہوں پہرے ہوں یا ہوں دیواریں رہیں گے میری نظر میں تو وہ سمائے ہوئے کسی کے حسن کی بس اک کرن ہی کافی ہے یہ لوگ کیوں مرے آگے ہیں شمع لائے ہوئے

GhazalRead Full

rawish rawish pe hain nikhat-fashan gulab ke phul

روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول حسیں گلاب کے پھول ارغواں گلاب کے پھول جہان گریۂ شبنم سے کس غرور کے ساتھ گزر رہے ہیں تبسم کناں گلاب کے پھول یہ میرا دامن صد چاک یہ ردائے بہار یہاں شراب کے چھینٹے وہاں گلاب کے پھول خیال یار ترے سلسلے نشوں کی رتیں جمال یار تری جھلکیاں گلاب کے پھول مری نگاہ میں دور زماں کی ہر کروٹ لہو کی لہر دلوں کا دھواں گلاب کے پھول سلگتے جاتے ہیں چپ چاپ ہنستے جاتے ہیں مثال چہرۂ پیغمبراں گلاب کے پھول یہ کیا طلسم ہے یہ کس کی یاسمیں بانہیں چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجدؔ مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

GhazalRead Full

tere chehre ki tarah aur mere sine ki tarah

تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح میرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرح پھول جاگے ہیں کہیں تیرے بدن کی مانند اوس مہکی ہے کہیں تیرے پسینے کی طرح اے مجھے چھوڑ کے طوفان میں جانے والی دوست ہوتا ہے تلاطم میں سفینے کی طرح اے مرے غم کو زمانے سے بتانے والی میں ترا راز چھپاتا ہوں دفینے کی طرح تیرا وعدہ تھا کہ اس ماہ ضرور آئے گی اب تو ہر روز گزرتا ہے مہینے کی طرح

GhazalRead Full

apni dhun mein rahta hun

اپنی دھن میں رہتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں او پچھلی رت کے ساتھی اب کے برس میں تنہا ہوں تیری گلی میں سارا دن دکھ کے کنکر چنتا ہوں مجھ سے آنکھ ملائے کون میں تیرا آئینہ ہوں میرا دیا جلائے کون میں ترا خالی کمرہ ہوں تیرے سوا مجھے پہنے کون میں ترے تن کا کپڑا ہوں تو جیون کی بھری گلی میں جنگل کا رستہ ہوں آتی رت مجھے روئے گی جاتی رت کا جھونکا ہوں اپنی لہر ہے اپنا روگ دریا ہوں اور پیاسا ہوں

GhazalRead Full

mere dil ki rakh kured mat ise muskura ke hawa na de

مرے دل کی راکھ کرید مت اسے مسکرا کے ہوا نہ دے یہ چراغ پھر بھی چراغ ہے کہیں تیرا ہاتھ جلا نہ دے نئے دور کے نئے خواب ہیں نئے موسموں کے گلاب ہیں یہ محبتوں کے چراغ ہیں انہیں نفرتوں کی ہوا نہ دے ذرا دیکھ چاند کی پتیوں نے بکھر بکھر کے تمام شب ترا نام لکھا ہے ریت پر کوئی لہر آ کے مٹا نہ دے میں اداسیاں نہ سجا سکوں کبھی جسم و جاں کے مزار پر نہ دیے جلیں مری آنکھ میں مجھے اتنی سخت سزا نہ دے مرے ساتھ چلنے کے شوق میں بڑی دھوپ سر پہ اٹھائے گا ترا ناک نقشہ ہے موم کا کہیں غم کی آگ گھلا نہ دے میں غزل کی شبنمی آنکھ سے یہ دکھوں کے پھول چنا کروں مری سلطنت مرا فن رہے مجھے تاج و تخت خدا نہ دے

GhazalRead Full

tumhaari anjuman se uth ke diwane kahan jate

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے departing from your company, where could your lovers go? what would happen to those legends that around you grow? نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے if on leaving temple,mosque no tavern were be found what refuge would outcasts find? this only God would know تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے your indifference has managed to preserve the tavern's name had we feasted from your eyes, what then would wine bestow? چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے twas a good thing that my madness was to some avail else, for my state, what other reason could the world I show? قتیلؔ اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے had pain and misery been strangers to my life somehow how would then I know the difference between friend and foe

GhazalRead Full

aap ki aankh se gahra hai meri ruh ka zakhm

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو لذت غم کے سوا تیری نگاہوں کے بغیر کون سمجھا ہے مرے زخم کی گہرائی کو میں بڑھاؤں گا تری شہرت خوشبو کا نکھار تو دعا دے مرے افسانۂ رسوائی کو وہ تو یوں کہیے کہ اک قوس قزح پھیل گئی ورنہ میں بھول گیا تھا تری انگڑائی کو

GhazalRead Full

jhum ke jab rindon ne pila di

جھوم کے جب رندوں نے پلا دی شیخ نے چپکے چپکے دعا دی ایک کمی تھی تاج محل میں میں نے تری تصویر لگا دی آپ نے جھوٹا وعدہ کر کے آج ہماری عمر بڑھا دی ہائے یہ ان کا طرز محبت آنکھ سے بس اک بوند گرا دی

GhazalRead Full

niyyat-e-shauq bhar na jae kahin

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد آج کا دن گزر نہ جائے کہیں نہ ملا کر اداس لوگوں سے حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں آرزو ہے کہ تو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصرؔ پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

GhazalRead Full

hasti apni habab ki si hai

ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے چشم دل کھول اس بھی عالم پر یاں کی اوقات خواب کی سی ہے بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں حالت اب اضطراب کی سی ہے نقطۂ خال سے ترا ابرو بیت اک انتخاب کی سی ہے میں جو بولا کہا کہ یہ آواز اسی خانہ خراب کی سی ہے آتش غم میں دل بھنا شاید دیر سے بو کباب کی سی ہے دیکھیے ابر کی طرح اب کے میری چشم پر آب کی سی ہے میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے

GhazalRead Full

ek lafz-e-mohabbat ka adna ye fasana hai

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہے یہ کس کا تصور ہے یہ کس کا فسانا ہے جو اشک ہے آنکھوں میں تسبیح کا دانا ہے دل سنگ ملامت کا ہر چند نشانا ہے دل پھر بھی مرا دل ہے دل ہی تو زمانا ہے ہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانا ہے رونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانا ہے وہ اور وفا دشمن مانیں گے نہ مانا ہے سب دل کی شرارت ہے آنکھوں کا بہانا ہے شاعر ہوں میں شاعر ہوں میرا ہی زمانا ہے فطرت مرا آئینا قدرت مرا شانا ہے جو ان پہ گزرتی ہے کس نے اسے جانا ہے اپنی ہی مصیبت ہے اپنا ہی فسانا ہے کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے آغاز محبت ہے آنا ہے نہ جانا ہے اشکوں کی حکومت ہے آہوں کا زمانا ہے آنکھوں میں نمی سی ہے چپ چپ سے وہ بیٹھے ہیں نازک سی نگاہوں میں نازک سا فسانا ہے ہم درد بہ دل نالاں وہ دست بہ دل حیراں اے عشق تو کیا ظالم تیرا ہی زمانا ہے یا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا ان سے کل ان کا زمانہ تھا آج اپنا زمانا ہے اے عشق جنوں پیشہ ہاں عشق جنوں پیشہ آج ایک ستم گر کو ہنس ہنس کے رلانا ہے تھوڑی سی اجازت بھی اے بزم گہ ہستی آ نکلے ہیں دم بھر کو رونا ہے رلانا ہے یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے خود حسن و شباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپنا جب دیکھیے اب وہ ہیں آئینہ ہے شانا ہے تصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غم جاناں اک نقش چھپانا ہے اک نقش دکھانا ہے یہ حسن و جمال ان کا یہ عشق و شباب اپنا جینے کی تمنا ہے مرنے کا زمانا ہے مجھ کو اسی دھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنا اب آئے وہ اب آئے لازم انہیں آنا ہے خودداری و محرومی محرومی و خودداری اب دل کو خدا رکھے اب دل کا زمانا ہے اشکوں کے تبسم میں آہوں کے ترنم میں معصوم محبت کا معصوم فسانا ہے آنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگرؔ لیکن بندھ جائے سو موتی ہے رہ جائے سو دانا ہے

GhazalRead Full

apni dhun mein rahta hun

اپنی دھن میں رہتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں او پچھلی رت کے ساتھی اب کے برس میں تنہا ہوں تیری گلی میں سارا دن دکھ کے کنکر چنتا ہوں مجھ سے آنکھ ملائے کون میں تیرا آئینہ ہوں میرا دیا جلائے کون میں ترا خالی کمرہ ہوں تیرے سوا مجھے پہنے کون میں ترے تن کا کپڑا ہوں تو جیون کی بھری گلی میں جنگل کا رستہ ہوں آتی رت مجھے روئے گی جاتی رت کا جھونکا ہوں اپنی لہر ہے اپنا روگ دریا ہوں اور پیاسا ہوں

GhazalRead Full

husn-e-mah garche ba-hangam-e-kamal achchha hai

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے خضر سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبز شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

GhazalRead Full

bhadkaen meri pyas ko aksar teri aankhen

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلی کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن کھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تری آنکھیں اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

GhazalRead Full

shabnam hai ki dhoka hai ki jharna hai ki tum ho

شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو دل دشت میں اک پیاس تماشہ ہے کہ تم ہو اک لفظ میں بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں اک غیب سے آیا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو دروازہ بھی جیسے مری دھڑکن سے جڑا ہے دستک ہی بتاتی ہے پرایا ہے کہ تم ہو اک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں اک شام کے ہونے کا بھروسہ ہے کہ تم ہو میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو

GhazalRead Full

wo chandni ka badan khushbuon ka saya hai

وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایا ہے بہت عزیز ہمیں ہے مگر پرایا ہے اتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے کہاں سے آئی یہ خوشبو یہ گھر کی خوشبو ہے اس اجنبی کے اندھیرے میں کون آیا ہے مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں اسے زمانے نے شاید بہت ستایا ہے تمام عمر مرا دل اسی دھوئیں میں گھٹا وہ اک چراغ تھا میں نے اسے بجھایا ہے

GhazalRead Full

in aankhon ki masti ke mastane hazaron hain

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں اک تم ہی نہیں تنہا الفت میں مری رسوا اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں اک صرف ہمیں مے کو آنکھوں سے پلاتے ہیں کہنے کو تو دنیا میں مے خانے ہزاروں ہیں اس شمع فروزاں کو آندھی سے ڈراتے ہو اس شمع فروزاں کے پروانے ہزاروں ہیں

GhazalRead Full

tera chehra kitna suhana lagta hai

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے ترچھے ترچھے تیر نظر کے لگتے ہیں سیدھا سیدھا دل پہ نشانا لگتا ہے آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے پاؤں نا باندھا پنچھی کا پر باندھا آج کا بچہ کتنا سیانا لگتا ہے سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے سننے والے گھنٹوں سنتے رہتے ہیں میرا فسانہ سب کا فسانا لگتا ہے کیفؔ بتا کیا تیری غزل میں جادو ہے بچہ بچہ تیرا دوانا لگتا ہے

GhazalRead Full

aap jin ke qarib hote hain

آپ جن کے قریب ہوتے ہیں وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جب طبیعت کسی پر آتی ہے موت کے دن قریب ہوتے ہیں مجھ سے ملنا پھر آپ کا ملنا آپ کس کو نصیب ہوتے ہیں ظلم سہہ کر جو اف نہیں کرتے ان کے دل بھی عجیب ہوتے ہیں عشق میں اور کچھ نہیں ملتا سیکڑوں غم نصیب ہوتے ہیں نوحؔ کی قدر کوئی کیا جانے کہیں ایسے ادیب ہوتے ہیں

GhazalRead Full

mere dil ki rakh kured mat ise muskura ke hawa na de

مرے دل کی راکھ کرید مت اسے مسکرا کے ہوا نہ دے یہ چراغ پھر بھی چراغ ہے کہیں تیرا ہاتھ جلا نہ دے نئے دور کے نئے خواب ہیں نئے موسموں کے گلاب ہیں یہ محبتوں کے چراغ ہیں انہیں نفرتوں کی ہوا نہ دے ذرا دیکھ چاند کی پتیوں نے بکھر بکھر کے تمام شب ترا نام لکھا ہے ریت پر کوئی لہر آ کے مٹا نہ دے میں اداسیاں نہ سجا سکوں کبھی جسم و جاں کے مزار پر نہ دیے جلیں مری آنکھ میں مجھے اتنی سخت سزا نہ دے مرے ساتھ چلنے کے شوق میں بڑی دھوپ سر پہ اٹھائے گا ترا ناک نقشہ ہے موم کا کہیں غم کی آگ گھلا نہ دے میں غزل کی شبنمی آنکھ سے یہ دکھوں کے پھول چنا کروں مری سلطنت مرا فن رہے مجھے تاج و تخت خدا نہ دے

GhazalRead Full

yun saja chand ki jhalka tere andaz ka rang

یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ سایۂ چشم میں حیراں رخ روشن کا جمال سرخیٔ لب میں پریشاں تری آواز کا رنگ بے پیے ہوں کہ اگر لطف کرو آخر شب شیشۂ مے میں ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ چنگ و نے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے دل نے لے بدلی تو مدھم ہوا ہر ساز کا رنگ اک سخن اور کہ پھر رنگ تکلم تیرا حرف سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ

GhazalRead Full

tumhaari anjuman se uth ke diwane kahan jate

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے departing from your company, where could your lovers go? what would happen to those legends that around you grow? نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے if on leaving temple,mosque no tavern were be found what refuge would outcasts find? this only God would know تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے your indifference has managed to preserve the tavern's name had we feasted from your eyes, what then would wine bestow? چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے twas a good thing that my madness was to some avail else, for my state, what other reason could the world I show? قتیلؔ اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے had pain and misery been strangers to my life somehow how would then I know the difference between friend and foe

GhazalRead Full

aap ki aankh se gahra hai meri ruh ka zakhm

آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم آپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کو میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیات خود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو لذت غم کے سوا تیری نگاہوں کے بغیر کون سمجھا ہے مرے زخم کی گہرائی کو میں بڑھاؤں گا تری شہرت خوشبو کا نکھار تو دعا دے مرے افسانۂ رسوائی کو وہ تو یوں کہیے کہ اک قوس قزح پھیل گئی ورنہ میں بھول گیا تھا تری انگڑائی کو

GhazalRead Full

jhum ke jab rindon ne pila di

جھوم کے جب رندوں نے پلا دی شیخ نے چپکے چپکے دعا دی ایک کمی تھی تاج محل میں میں نے تری تصویر لگا دی آپ نے جھوٹا وعدہ کر کے آج ہماری عمر بڑھا دی ہائے یہ ان کا طرز محبت آنکھ سے بس اک بوند گرا دی

GhazalRead Full

wo ki har ahd-e-mohabbat se mukarta jae

وہ کہ ہر عہد محبت سے مکرتا جائے دل وہ ظالم کہ اسی شخص پہ مرتا جائے میرے پہلو میں وہ آیا بھی تو خوشبو کی طرح میں اسے جتنا سمیٹوں وہ بکھرتا جائے کھلتے جائیں جو ترے بند قبا زلف کے ساتھ رنگ پیراہن شب اور نکھرتا جائے عشق کی نرم نگاہی سے حنا ہوں رخسار حسن وہ حسن جو دیکھے سے نکھرتا جائے کیوں نہ ہم اس کو دل و جان سے چاہیں تشنہؔ وہ جو اک دشمن جاں پیار بھی کرتا جائے

GhazalRead Full

shamshir-e-barhana mang ghazab baalon ki mahak phir waisi hi

شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی جوڑے کی گندھاوٹ قہر خدا بالوں کی مہک پھر ویسی ہی آنکھیں ہیں کٹورا سی وہ ستم گردن ہے صراحی دار غضب اور اسی میں شراب سرخی پاں رکھتی ہے جھلک پھر ویسی ہی ہر بات میں اس کی گرمی ہے ہر ناز میں اس کے شوخی ہے قامت ہے قیامت چال پری چلنے میں پھڑک پھر ویسی ہی گر رنگ بھبوکا آتش ہے اور بینی شعلۂ سرکش ہے تو بجلی سی کوندے ہے پری عارض کی چمک پھر ویسی ہی نوخیز کچیں دو غنچہ ہیں ہے نرم شکم اک خرمن گل باریک کمر جو شاخ گل رکھتی ہے لچک پھر ویسی ہی ہے ناف کوئی گرداب بلا اور گول سریں رانیں ہیں صفا ہے ساق بلوریں شمع ضیا پاؤں کی کفک پھر ویسی ہی محرم ہے حباب آب رواں سورج کی کرن ہے اس پہ لپٹ جالی کی کرتی ہے وہ بلا گوٹے کی دھنک پھر ویسی ہی وہ گائے تو آفت لائے ہے ہر تال میں لیوے جان نکال ناچ اس کا اٹھائے سو فتنے گھنگرو کی جھنک پھر ویسی ہی ہر بات پہ ہم سے وہ جو ظفرؔ کرتا ہے لگاوٹ مدت سے اور اس کی چاہت رکھتے ہیں ہم آج تلک پھر ویسی ہی

GhazalRead Full

rawish rawish pe hain nikhat-fashan gulab ke phul

روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول حسیں گلاب کے پھول ارغواں گلاب کے پھول جہان گریۂ شبنم سے کس غرور کے ساتھ گزر رہے ہیں تبسم کناں گلاب کے پھول یہ میرا دامن صد چاک یہ ردائے بہار یہاں شراب کے چھینٹے وہاں گلاب کے پھول خیال یار ترے سلسلے نشوں کی رتیں جمال یار تری جھلکیاں گلاب کے پھول مری نگاہ میں دور زماں کی ہر کروٹ لہو کی لہر دلوں کا دھواں گلاب کے پھول سلگتے جاتے ہیں چپ چاپ ہنستے جاتے ہیں مثال چہرۂ پیغمبراں گلاب کے پھول یہ کیا طلسم ہے یہ کس کی یاسمیں بانہیں چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجدؔ مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

GhazalRead Full

koi hasin manzar aankhon se jab ojhal ho jaega

کوئی حسیں منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہو جائے گا مجھ کو پاگل کہنے والا خود ہی پاگل ہو جائے گا پلکوں پہ اس کی جلے بجھیں گے جگنو جب مری یادوں کے کمرے میں ہوں گی برساتیں گھر جنگل ہو جائے گا جس دن اس کی زلفیں اس کے شانوں پر کھل جائیں گی اس دن شرم سے پانی پانی خود بادل ہو جائے گا جب بھی وہ پاکیزہ دامن آ جائے گا ہاتھ مرے آنکھوں کا یہ میلا پانی گنگا جل ہو جائے گا اس کی یادیں اس کی باتیں اس کی وفائیں اس کا پیار کس کو خبر تھی جینا مشکل ایک اک پل ہو جائے گا مت گھبرا اے پیاسے دریا سورج آنے والا ہے برف پہاڑوں سے پگھلی تو جل ہی جل ہو جائے گا

Explore Similar Collections

Husn FAQs

Husn collection me kya milega?

Husn se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.